تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 599 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 599

تاریخ احمدیت جلد ۳ 591 خلافت اولی کی نسبت آسمانی شمار تھیں اول نمبر پر ہے اور غیر اللہ سے انقطاع میں اور ایثار اور خدمات دین میں وہ عجیب شخص ہے اس نے اعلائے کلمتہ اللہ کے لئے مختلف وجوہات سے بہت مال خرچ کیا ہے اور میں نے اس کو ان مخلصین سے پایا ہے جو ہر ایک رضا پر اور اولاد و ازواج پر اللہ تعالی کی رضا کو مقدم رکھتے ہیں اور ہمیشہ اس کی رضا چاہتے ہیں اور اس کی رضا کے حاصل کرنے کے لئے ماں اور جانیں صرف کرتے ہیں اور ہر حال میں شکر گذاری سے زندگی بسر کرتے ہیں اور وہ شخص رقیق القلب صاف طبع حلیم - کریم اور جامع الخیرات۔بدن کے تعمد اور اس کی لذات سے بہت دور ہے۔بھلائی اور نیکی کا موقع اس کے ہاتھ سے کبھی ضائع نہیں ہو تا۔اور وہ چاہتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دین کے اعلاء اور تائید میں پانی کی طرح اپنا خون بہا دے اور اپنی جان کو بھی خاتم البنین" کی راہ میں صرف کرے۔وہ ہر ایک بھلائی کے پیچھے چلتا ہے۔اور مفسدوں کی بیخ کنی کے واسطے ہر ایک سمندر میں غوطہ زن ہوتا ہے۔میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر تا ہوں کہ اس نے مجھے ایسا اعلیٰ درجہ کا صدیق دیا جو راستباز اور جلیل القدر فاضل ہے اور باریک بین اور نکتہ رس۔اللہ تعالی کے لئے مجاہدہ کرنے والا اور کمال اخلاص سے اس کے لئے ایسی اعلیٰ درجہ کی محبت رکھنے والا ہے کہ کوئی محب اس سے سبقت نہیں لے گیا۔ضمیمہ انجام آتھم (۱۸۹۸) میں فرماتے ہیں۔" مولوی حکیم نور الدین صاحب۔۔۔۔تمام دنیا کو پامال کر کے میرے پاس ان فقراء کے رنگ میں آبیٹھے ہیں جیسا کہ اخص صحابہ رضی اللہ عنہم نے طریق اختیار کر لیا تھا"۔"ضرورة الامام" (۱۸۹۸) میں تحریر فرماتے ہیں۔”ہماری جماعت میں اور میرے بیعت کردہ بندگان خدا میں ایک مرد ہیں جو جلیل الشان فاضل ہیں اور وہ مولوی حکیم حافظ حاجی حرمین نور الدین صاحب ہیں جو گویا تمام جہان کی تفسیریں اپنے پاس رکھتے ہیں اور ایسا ہی ان کے دل میں ہزار ہا قرآنی معارف کا ذخیرہ ہے "۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی رقم فرمودہ ایک تحریر مفتی محمد صادق صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں لکھا کہ میں نے سعد اللہ کے متعلق ایک مضمون لکھا ہے حضور ملاحظہ فرما دیں اور خواجہ کمال الدین صاحب کے پیشگوئی کی اشاعت کے منع کرنے کے بارے میں اگر مناسب ہو تو چند الفاظ تحریر فرما دیں۔جس پر حضور علیہ السلام نے اپنے دست مبارک سے مندرجہ ذیل تحریر رقم فرمائی (جو جناب شیخ محمد اسماعیل صاحب پانی پتی کے پاس محفوظ ہے)