تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 41 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 41

تاریخ احمدیت جلد ۳ 37 خلیفہ المسیح الاول کے حالات زندگی ( محمل از خلافت) لکھنو میں آمد بحالی صحت کے بعد آپ نے لکھنو کا قصد کیا۔کانپور میں آپ کے بھائی کے ایک دوست عبدالرحمن خان مالک مطبع نظامی کے پاس آپ ٹھر گئے انہوں نے حکیم علی حسین صاحب لکھنوی کی بہت تعریف کی اور دوسرے دن گاڑی میں سوار کرا کے لکھنو روانہ کر دیا۔لکھنو میں آپ کسی حالت میں پہنچے اور اللہ تعالی نے آپ کی تعلیم اور رہائش کے لئے کس طرح نی سامان فرمائے یہ نہایت درجہ ایمان پرور اور روح افزا حالات ہیں جن کا تذکرہ خود حضرت خلیفہ المسیح اول کے قلم مبارک ہی سے لکھتا ہوں۔فرماتے ہیں :۔" کچی سڑک اور گرمی کا موسم - گردو غبار نے مجھے خاک آلودہ کر دیا تھا کہ میں لکھنو پہنچا جہاں وہ گاڑی ٹھری وہاں اترتے ہی میں نے حکیم صاحب کا پتہ پوچھا۔خدائی عجائبات ہیں کہ جہاں گاڑی ٹھری تھی اس کے سامنے ہی حکیم صاحب کا مکان تھا۔یہاں ایک پنجابی مثل یاد کرنے کے قابل ہے۔کل کرے اولیاں رب کرے سولیاں اسی وحشیانہ حالت میں مکان میں جا تھا۔ایک بڑا ہال نظر آیا۔ایک فرشتہ خصلت دلربا۔حسین - سفید ریش نہایت سفید کپڑے پہنے ہوئے ایک گدیلے پر چار زانو بیٹھا ہوا۔پیچھے اس کے ایک نہایت نفیس تکیہ اور دونوں طرف چھوٹے چھوٹے تکیے۔سامنے پاندان اگالدان - خاصدان۔قلم دوات - کاغذ دھرے ہوئے۔ہال کے کنارے کنارے جیسا کوئی التحیات میں بیٹھتا ہے بڑے خوشنما چہرے قرینے سے بیٹھے ہوئے نظر آئے۔نہایت براق چاندنی کا فرش اس ہال میں تھا۔وہ قہقہہ دیوار دیکھ کر میں حیران سارہ گیا۔کیونکہ پنجاب میں کبھی ایسا نظارہ دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔بہر حال اس کے مشرقی دروازہ سے اپنا بستہ اس دروازہ ہی میں رکھ کر) حضرت حکیم صاحب کی طرف جانے کا قصد کیا۔گرد آلودہ پاؤں جب اس چاندنی پر پڑے تو اس نقش و نگار سے میں خود ہی مجوب ہو گیا۔حکیم صاحب تک بے تکلف جا پہنچا اور وہاں اپنی عادت کے مطابق زور سے السلام علیکم کہا جو لکھنو میں ایک نرالی آواز تھی۔یہ تو میں نہیں کہہ سکتا۔کہ حکیم صاحب نے وعلیکم السلام زور سے یا دبی آواز سے کہا ہو مگر میرے ہاتھ بڑھانے سے انہوں نے ضرور ہی ہاتھ بڑھایا اور خاکسار کے خاک آلودہ ہاتھوں سے اپنے ہاتھ آلودہ کئے اور میں دو زانو بیٹھ گیا۔یہ میرا دو زانو بیٹھنا بھی اس چاندنی کے لئے جس عجیب نظارہ کا موجب ہوارہ یہ ہے کہ ایک شخص نے جو اراکین لکھنو سے تھا اس وقت مجھے مخاطب کر کے کہا کہ آپ کسی مہذب ملک سے تشریف لائے ہیں۔میں تو اپنے قصور کا پہلے ہی قائل ہو چکا تھا مگر خدا شرے برانگیزد که غیر مادران باشد۔میں نے نیم نگاہی کے ساتھ اپنی جوانی کی ترنگ میں اس کو یہ جواب دیا کہ یہ بے تکلفیاں اور السلام علیکم کی بے تکلف آواز وادی فیرزی