تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 595
587 خلافت اونی کی نسبت آسمانی شاد میں اپنے قدموں میں جگہ دو اللہ کی رضامندی چاہتا ہوں اور جس طرح وہ راضی ہو سکے تیار ہوں اگر آپ کے مشن کو انسانی خون کی آبپاشی ضرور ہے۔تو یہ نابکار (مگر محب انسان) چاہتا ہے کہ اسی کام میں کام آوے۔" تم كلامه جزاء الله حضرت مولوی صاحب جو انکسار اور ادب اور ایثار مال و عزت اور جاں فشانی میں فانی ہیں وہ خود نہیں بولتے بلکہ ان کی روح بول رہی ہے "۔"نشان آسمانی " (۱۸۹۲ء) میں تحریر فرماتے ہیں۔”مولوی حکیم نور دین صاحب اپنے اخلاص اور محبت اور صفت ایثار اور اللہ شجاعت اور سخاوت اور ہمدردی اسلام میں عجیب شان رکھتے ہیں کثرت مال کے ساتھ کچھ قدر قلیل خدا تعالیٰ کی راہ میں دیتے ہوئے تو بہتوں کو دیکھا مگر خود بھوکے پیاسے رہ کر اپنا عزیز مال رضائے مولیٰ میں اٹھا دینا اور اپنے لئے دنیا میں کچھ نہ بنانا یہ صفت کامل طور پر مولوی صاحب موصوف میں ہی دیکھی۔یا ان میں جن کے دلوں پر ان کی صحبت کا اثر ہے۔۔۔اور جس قدر ان کے مال سے مجھ کو مدد پہنچی ہے۔اس کی نظیر اب تک میرے پاس نہیں۔۔۔خد اتعالیٰ اس خصلت اور ہمت کے آدمی اس امت میں زیادہ سے زیادہ کرے آمین ثم آمین۔A چه خوش بودے اگر ہر یک زامت نور دیں بودے ہمیں بودے اگر ہر دل پر از نور یقیں بودے۔ازالہ اوہام " (۱۸۹۱ء) میں تحریر فرماتے ہیں۔ان کے مال سے جس قدر مجھے مدد پہنچی ہے میں اس کی کوئی ایسی نظیر نہیں دیکھتا جو اس کے مقابل پر بیان کر سکوں۔میں نے ان کو طبعی طور پر اور نهایت انشراح مصدرت دینی خدمتوں میں جاں نثار پایا۔اگر چہ ان کی روز مرہ زندگی اسی راہ میں وقف ہے۔کہ وہ ہریک پہلو سے اسلام اور مسلمانوں کے بچے خادم ہیں مگر اس سلسلہ کے ناصرین میں سے وہ اول درجہ کے نکلے۔۔۔میں یقینا د یکھتا ہوں کہ جب تک وہ نسبت پیدا نہ ہو۔جو محب کو اپنے محبوب سے ہوتی ہے۔تب تک ایسا انشراح صدر کسی میں پیدا نہیں ہو سکتا۔ان کو خدا تعالی نے قومی ہاتھوں سے اپنی طرف کھینچ لیا ہے۔اور طاقت بالائے خارق عادت اثر ان پر کیا ہے۔انہوں نے ایسے وقت میں بلا تردد مجھے قبول کیا جب ہر طرف سے تکفیر کی صدائیں بلند ہونے کو تھیں اور بہتیروں نے باوجود بیعت کے عہد بیعت فسخ کر دیا تھا۔اور بہتیرے ست اور متذبذب ہو گئے تھے۔تب سب سے پہلے مولوی صاحب ممدوح کا ہی خط اس عاجز کے اس دعوئی کی تصدیق میں کہ میں ہی مسیح موعود ہوں۔قادیان میرے پاس پہنچا جس میں یہ فقرات درج تھے۔امنا و صدقنا فاكتبنا مع الشاهدين۔۔۔مولوی صاحب نے وہ صدق قدم دکھلایا جو مولوی صاحب کی عظمت ایمان پر ایک محکم دلیل ہے دل میں از بس آرزو ہے کہ اور لوگ بھی مولوی صاحب کے نمونہ پر چلیں مولوی صاحب پہلے راستبازوں کا ایک نمونہ ہیں۔