تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 591 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 591

ریخ احمدیت جلد ۳ 583 خلافت اولی کی نسبت آسمانی شہادتیں جو ان کی جنس میں سے نہیں ہو گا۔کیونکہ اس نے کبھی خدا کی نافرمانی نہیں کی ہوگی۔رہی اس موعود کا وزیر خاص اور بہترین امین ہو گا۔چو یہ پیشگوئی حضرت خلیفہ اول کی ذات میں جس کمال صفائی سے پوری ہوئی وہ محتاج بیان نہیں۔وتھی شہادت بعض پیشگوئیوں سے پتہ چلتا ہے کہ مہدی کا ایک مدد گار کشمیر میں سے آئے گا۔چنانچہ آپ کو کشمیر میں ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعوت پہنچی اور کشمیر سے ہی آکر آپ بیعت اولی کے موقعہ پر پہلی بیعت سے مشرف ہوئے۔پانچویں شہادت پانچھ میں صدی ہجری کے مسلمہ امام حضرت امام یحی بن عقب امام مہدی کے بعد ایک عربی النسل انسان کے ظہور کی پیش گوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔اذا ما جاء هم العربي حقا على عمل سیملک ويفتحونها من غير شک ركم محال داع ينادي بابتهال یعنی حضرت امام مہدی کے بعد ایک عظیم الشان عربی النسل آئے گا۔جو خلیفہ برحق ہو گا۔(یا سیہ حق بات ہے کہ وہ عربی نسل ہو گا) اور نیک عمل و سیرت اور بلند مرتبت کے باعث وہ روحانی بادشاہت کا ضرور وارث ہو گا۔اور اس کے زمانہ میں بلا شک ممالک فتح ہوں گے۔بے شمار دعائیں کرنے والے اسلام کو فتح (یا قدرت ثانیہ کے ظہور کے لئے ) دعا ئیں کریں گے۔چھٹی شہادت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ مد عللها العالی کو آپ کی خلافت کے بارے میں قبل از وقت بذریعہ رویا بتا دیا گیا تھا۔اسی طرح حضرت صاجزادہ عبد اللطیف صاحب شہید اللہ کو بھی آپ کی خلافت کی اطلاع دی گئی چنانچہ حضرت صاحبزادہ صاحب نے قادیان میں عجب خاں صاحب تحصیلدار سے ارشاد فرمایا کہ واپسی کے وقت مولوی نور الدین صاحب سے جاکر ضرو ر ا جازت لینا کیونکہ حضرت مسیح موعود کے بعد یہی پہلے خلیفہ ہوں گے۔علاوہ ازیں میاں نجم الدین صاحب بھیروی کے خاندان کی ایک مسلمہ خاتون کو تیس سال پیشتر ہی جب کہ ان کو ابھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی کا بھی علم نہیں تھا خواب میں دکھایا گیا۔کہ حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفتہ المسیح بن گئے ہیں۔" آپ کی خلافت پر ساتویں عظیم الشان شہادت یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ ساتویں شہادت السلام کے وصال مبارک پر پوری قوم کی نگاہیں خلافت کے لئے جس مقدس وجود کی طرف اٹھیں وہ فقط آپ ہی کا وجود تھا۔چنانچہ حضور علیہ السلام کی وفات کے معا بعد حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب امروہوی نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر عرض کی۔انت صدیقی یعنی آپ میرے