تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 590 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 590

تاریخ احمدیت - جلد ۳ 582 خلافت اوٹی کی نسبت آسمانی شہادتیں نواں باب (فصل اول) خلافت اولیٰ کی نسبت آسمانی شہادتیں حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح اول مولوی نور الدین صاحب بھیروی الله کی خلافت خدائے علیم و خبیر کی ازلی تقدیروں میں سے ایک خاص تقدیر تھی اور آپ ایک موعود شخصیت تھے چنانچہ اس سلسلہ میں چند آسمانی شہادتیں ذیل میں لکھی جاتی ہیں۔محضرت اللہ نے ایک طرف یہ خبر دی کہ میری امت کی ہلاکت قریش کے پہلی شہادت ہاتھوں ہو گی۔دوسری طرف دعا فرمائی۔" اللهم اذقت اول قريش نکالا فاذق اخر هم نوالا۔اے خدا جس طرح تو نے اول قریش کو بلا سے دو چار کیا اسی طرح انجام کار ان کو اپنی عطا سے بہرہ ور کرنا۔حضرت پیغمبر خدا کی یہ دعا حضرت خلیفتہ المسیح اول کی خلافت سے پوری ہوئی اس طرح خلافت کا اختتام بھی قریش سے ہوا اور اس کا احیاء واجراء بھی قریش سے۔دوسری شهادت آنحضرت ا نے حضرت عمر سے فرمایا کہ ایک مہدی تیری اولاد سے بھی ہو گا۔جو زر شیعہ ہو گا یعنی جس کے منہ اور سر کے کسی حصہ میں ایسا زخم لگے جو ہڈی تک پہنچا ہو گا۔حضرت خلیفتہ المسیح اول فاروقی النسل بھی تھے اور آخری عمر میں ذوشبعہ والی پیشگوئی کے بھی مصداق ہوئے۔حضرت محی الدین ابن عربی رحمتہ اللہ علیہ (۱۱۶۴-۱۲۴۰) نے پیش گوئی فرمائی کہ تیسری شهادت آنے والے موعود کا ایک خاص و زیر حافظ قرآن ہو گا۔چنانچہ لکھتے ہیں و ہم من الاعاجم ما فيهم عربى و لكن لا يتكلمون الا بالعربية لهم حافظ ليس من جنسهم ما عصى الله قط هو اخص الوزراء وافضل الامناء " یعنی وزرائے مہدی سب عجمی ہوں گے ان میں سے کوئی عربی نہ ہو گا۔لیکن وہ عربی میں کلام کرتے ہوں گے۔ان میں سے ایک حافظ قرآن ہو گا۔