تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 582
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ - رسالہ انہیں صحت لاہور۔اپریل ۱۹۵۷ء صفحہ ۲۵ کالم ۲ 574 حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی سیرت طیبہ خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اکثرو بیشتر افراد کے علاوہ جنہوں نے آپ سے استفادہ کیا) آپ کے بعض ممتاز شاگر دیہ ہیں۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب حضرت حافظ روشن علی صاحب۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی۔جناب ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے۔حضرت خان صاحب فرزند علی صاحب۔حضرت بھائی عبد الرحیم صاحب۔حضرت محمد سعید صاحب حیدر آبادی۔حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب پروفیسر عبد القادر صاحب۔چوہدری غلام محمد صاحب بی۔اے۔ماسٹر عبد الرحمن صاحب (مصر سنگھ)۔مولوی محمد جی صاحب ہزار دی۔ابو سعید عرب صاحب۔حضرت مولوی غلام نبی صاحب مصری۔سید عبدائی عرب صاحب عبدالرحمن صاحب دا توی۔حضرت پیر سراج الحق صاحب۔مولوی محمد علی صاحب مرحوم۔ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب شیخ محمد تیمور صاحب ایم۔اے۔مولوی محمد علی صاحب ایک دفعہ نار اختگی میں قرآن شریف پھینک کر چلے گئے اور آپ کے درس میں آنا بند کر دیا تھا مگر پھر کچھ عرصہ بعد باقاعدگی سے آنا شروع کر دیا۔الفضل ۱۲ اگست ۱۹۲۴ء د ۱۳/ ستمبر ۱۹۱۴ء صفحہ ۷۔) روایت مولوی محمد یعقوب صاحب طاہر فاضل انچارج شعبہ زود نویسی ربوہ۔رسالہ انیس صحت لاہور اپریل ۱۹۵۷ء صفحہ ۲۵ کالم ۱-۲ ۱۲ رسالہ انیس صحت لاہور اپریل ۱۹۵۷ء صفحہ ۲۱-۲۲ رپورٹ کا نفرنس ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۴۷ ا۔چند نام یہ ہیں: مولوی غلام رسول صاحب را جیکی۔مولوی حکیم غلام محمد صاحب امرتسری - حکیم مولوی قطب الدین صاحب بدو لوی۔مفتی فضل الرحمن صاحب - حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی۔حکیم ڈاکٹر محمد طفیل صاحب بٹالوی حکیم نور محمد۔صاحب مشتاق احسان پوری شیخ فضل حق صاحب بٹالوی۔ڈاکٹر محمد حیات صاحب راولپنڈی۔حکیم مولوی عبد اللطیف صاحب ہاتف حکیم نظام جان صاحب و حکیم عبد الرحمن صاحب کا غانی۔حکیم محمد ابراہیم صاحب کپور تھلوی عطا محمد صاحب مرحوم (مالک (راخانه رفیق حیات (قادیان) حکیم محمد صدیق صاحب (سابق ملٹری ٹرانسپورٹ کلرک) متوطن گھو گھیاٹ ڈاک خانہ میانی حال ربوہ۔۱۵۔مراۃ الطبابت وغیرہ میں آپ کے مجربات شائع ہوتے تھے۔اور حکماء اور دوسرے لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے تھے۔آپ کی متعد دریا نہیں چھپ چکی ہیں جو آپ کے طبی کمالات کی عمدہ یاد گار ہیں۔روایت جناب نواب عبد الرحیم خان صاحب خالد بار ایٹ لاء مالیر کوٹلہ۔ضروری نوٹ:۔جناب نواب عبد الرحیم خان صاحب خالد نے مولف ہذا کے نام ایک مفصل مکتوب میں حضرت خلیفہ اول کے چشم دید اور ایمان افروز حالات بھجوائے تھے جن پر حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ مدظلہما نے از راہ شفقت نظر ثانی بھی فرمائی تھی۔تاریخ احمدیت کے اس حصہ میں نواب عبد الرحیم خان صاحب کی طرف سے جس قدر روایات درج ہیں وہ اسی مکتوب سے ماخوذ ہیں۔عد مرقاة الیقین صفحه ۱۸۵-۱۸۶ ا مرقاۃ الیقین صفحه ۱۸۵-۱۷۸-۱۸۰ ۱۹ اخبار نور جلد ۴ صفحه ۱۳ کالم ۲۳ ۲۰۔روایت ڈاکٹر عبد الحمید صاحب چغتائی تفسیر کبیر جلد پنجم حصہ دوم صفحه ۲۹۷۔(بیان مولوی فضل الدین صاحب وکیل) ۲۲۔ظہور احمد موعود صفحہ ۱۰۳۔بھیرہ کے بعض ہندوؤں نے ملک عبداللہ صاحب پٹواری بھیرہ کو بتایا کہ حضرت مولوی صاحب ہمیں فارسی میں خط لکھا کرتے تھے۔٢٣ الحكم ۷۰۱۴ / دسمبر ۱۹۱۸ء صفحه ۴ کالم ۲ ۲۴- انبد ر جلد ۲ نمبر۷ ۳ صفحه ۱۳۹۲ کالم ۲۔شعید الاذہان جلد ۶-۱۹۱ ء صفحہ ۲۶۳ - ۲۶۴ - بدر ۱۲ / مئی ۱۹۱۰ء صفحه ۳ کالم ۳ ۲۵- مرقاة الیقین صفحه ۱۸۸