تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 581
تاریخ احمد بیت - جلد ۳ 573 حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی سیرت علیہ ا بد /٦ / مئی ۱۹۰۹ ء صفحہ ۳ کانما۔۔حواشی باب هـ اسلام اور ملکیت زمین (از سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی اید واللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز) صفحہ ۱۵۔۔انہوں نے حضرت خلیفہ اول کی خواہش پر "الخیرا اکثیر کا ایک نسخہ بھی فل سکیپ کاغذ پر دستخط لکھوا کر بھجوایا تھا روایت مولوی محمد می صاحب فاضل) اس امر کا ثبوت آپ کے درس قرآن کے وہ نوٹ ہیں جو "دار الاشاعت پیر جھنڈا " سے مولانا عبد اللطیف صاحب بہاولپوری فاضل نے خود نقل کئے اور اب تک ان کے پاس محفوظ ہیں بطور مثال اس سے چند اقتباسات درج ذیل ہیں:۔" مرزا صاحب اصل میں عیسائیوں کے مقابلہ میں اٹھے تھے۔" نقل درس صفحہ ۹۲ - ” ہمارے ہاں قرآن میں تنسخ بالکل نہیں۔شاہ صاحب فقط پانچ آیتیں منسوخ مانتے ہیں مگر ہم اس کو بھی نہیں مانتے کیونکہ اس کی تاویل ہو سکتی ہے۔" نقل درس صفحہ ۳۱۱۸)۔" بعض اوقات ریفار مر مصلح مسجد کوئی قوم میں پیدا ہوا اور وہ اصلاح میں ویسا ہی رہا جس طرح کہ نبی ہوتا ہے اور اگر وہ نبوت کا دعوی کرے تو جو معیار ہم نے مقرر کیا ہے اس معیار پر اس کو نبی مانتا ہو گا۔( نقل درس صفحه ۲۲۳) " و لكن شبه لهم لیکن صليب چڑھانے کے وقت بہت گڑبڑ ہو گئی اور اس وقت پھانسی دینے والے لوگ خود شک میں تھے کہ آیا حضرت عیسی قتل ہوئے یا نہ۔" (اینا صفحه ۹۵) حاصل نزول عیسی کا یہ ہے کہ ایک آدمی ایسا پیدا ہو گا جو کہ عیسائیوں اور مسلمانوں کو ملادے گا۔" نقل درس صفحه ۱۵۱) تغییر الیوم اکملت لکم " اب گویا کہ سرکاری خزانے سے ہمیں ہر وقت چیز مل سکتی ہے۔فقط ایک شرط ہم پوری کریں پھر جو چاہیں مانگیں لے گا۔" فقل درس صفحہ 190) ہندوستان میں اگر رام اور کرشن کو مان لیا جاوے تو پھر ہندوؤں کے ساتھ بھی زیادہ بھرا نہیں رہتا۔" (ص ۲۸۲) ایک فلاسفروں کے سکول میں تعلیم پا کر ہم تو دید سیکھتے ہیں اور ایک یہ ہے کہ ہم نبی سے یہ تو حید سیکھتے ہیں تو جس وقت ہم نبی سے لا الہ الا اللہ سنتے ہیں تو ہمارے تمام اخلاق میں تغیر آجاتا ہے تو نبی پر روحانی عالم سے فیضان ہوتا ہے۔" ( نقل درس صفحہ ۲۷۹۔۲۸۰)- " جو روحیں مجسم انسانوں کو فطرت کی طرف چلانے کی کوشش کریں وہ انبیاء کہلاتے ہیں اسی طرح جو شخص فطرت سے الٹی ترقی کرانا چاہے تو وہ دجال کہلاتا ہے۔" ( نقل درس صفحہ ۱۴۳) مولینا عبد اللطیف صاحب بہاولپوری کا بیان ہے کہ جن دنوں میں نے یہ نوٹ نقل کئے ان دنوں میں غیر احمدی تھا اور مجھے احمدیت کا نام تک سنتا گوار نہیں تھا۔نونوں میں کئی مقامات پر حضرت مرزا صاحب کی تعریف لکھی تھی اس لئے میں نے جوش مخالفت میں ایسے کئی صفحات اپنے رجسٹر سے پھاڑ دئے تھے۔مولانا کا یہ بھی بیان ہے کہ مولوی نور الحق صاحب پر و فیسر اور ٹیل کالج کے پاس بھی یہ نوٹ موجود تھے۔مولانا سندھی کے سیاسی مکتوبات " جرنل آف پنجاب یونیورسٹی جنوری ۱۹۸۰ء صفحہ ۴۵ سے آپ کی حضرت خلیفہ اول سے غیر معمولی عقیدت کا پتہ چلتاہے۔- ذکر اقبال از عبد المجید صاحب سالک نام علمی حلقوں میں آپ کی کیا قدرو منزلت تھی اس کے لئے فقط ایک مثال کافی ہوئی۔با میانہ رہ کے ایک صاحب خاں ناظم مدرستہ المسلمین نے ۱۸۹۴ء میں ٹامس کارلائل کی کتاب ہیروز اینڈ ہیروز در شپ کے ایک لیکچر کا اردو ترجمہ اسلام اور اس کا بانی " کے نام سے شائع کیا اسے آپ کے نام پر معنون کرتے ہوئے لکھا۔" نذر بعالی خدمت فیض در جست عمر ق ا حقیقین قدرة المهد ممین های دین متین جناب حکیم مولوی نور الدین صاحب ان قومی خدمات جایلہ تقریری و تحریری وند ہی تو جهات جمیل۔لسانی ومالی کے لحاظ سے جو جناب کی ذات بابرکات سے رفاہ عام کے بارہ میں علی العموم اور اشاعت اسلام کے پیرایہ میں علی الخصوص معرض ظہور میں آئی ہیں۔اصل کتاب احمد یہ انجمن اشاعت اسلام !اہور کی لائبریری میں موجود ہے۔ے۔بطور مثال ملاحظہ ہو رسالہ " صور " منڈی بہاؤ الدین تمبر 1911ء صفحہ ہے۔اس رسالہ میں روزوں کی فلاسفی کے موضوع پر ایک مضمون شائع ہوا۔جس میں آپ کی تفسیر کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔