تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 39 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 39

یت - جلد ۳ 35 خلیفتہ المسیح الاول" کے حالات زندگی ( قبل از خلافت ) بڑی شدت سے یہ احساس پیدا ہوا کہ ہندوستان کی اسلامی درسگاہوں کا نظام تعلیم یکسر بدلنے کے لائق ہے۔نصاب کافی غور و فکر اور بڑے فہم و تدبر سے مقرر کیا جانا چاہئے۔باقاعدہ امتحان لیا جائے اور اس بات کو ہمیشہ ملحوظ رکھا جائے کہ طلباء دین و دنیا میں ترقی کر سکیں۔ایک سب سے بڑا مسئلہ آپ کے لئے یہ پیدا ہوا کہ نہ تو اساتذہ یہ رہنمائی کرتے ہیں کہ کن کتابوں کا انتخاب کرنا چاہئے۔نہ طلباء آزادی رائے کے ساتھ کوئی کتاب انتخاب کر کے اپنی صلاحیتوں اور قوتوں کو بروئے کار لا سکتے ہیں ایک نقص یہ بھی ہے کہ اس پورے نظام میں اخلاق فاضلہ کی تعلیم و تلقین کا کوئی حصہ نہیں ہو تا۔آپ ہمیشہ عمر کے آخر تک دکھ بھرے دل سے فرماتے کہ اس زمانہ میں کسی استاد میں یہ بات نہ دیکھی ان باتوں کا رنج مجھے اب تک بھی ہے۔کس قدر رنج ہوتا ہے جبکہ میں غور کرتا ہوں کہ اس وقت ہمارے افعال اقوال عادات اخلاق پر کبھی ہمارے معلموں میں سے کسی نے نوٹس نہ لیا بلکہ عقائد کے متعلق بھی کبھی کچھ نہ کہا مجھے تو یہ بھی یاد نہیں کہ مشکوۃ میں ہی ہمارے اخلاق پر توجہ ولائی گئی ہو۔رام پور میں ان دنوں ایک بزرگ حضرت شاہ عبدالرزاق رہا کرتے تھے حضرت مولوی صاحب کو اکثر ان سے فیض صحبت اٹھانے کا موقعہ ملتا تھا ایک دفعہ آپ کچھ دنوں کے وقفہ سے جو ان کی خدمت میں پہنچے تو فرمایا۔نور الدین تم بہت دنوں میں آئے اب تک کہاں تھے ؟ عرض کیا کہ حضرت ہم طالب علموں کو اپنے درس و تدریس کے اشغال سے بہت کم فرصت ملتی ہے۔کچھ مجھ سے بھی تساہل ہو گیا۔فرمانے لگے کبھی تم نے قصاب کی دکان بھی دیکھی ہے۔عرض کیا ہاں اکثر اتفاق ہوا ہے فرمایا تم نے دیکھا ہو گا کہ گوشت کاٹتے کاٹتے جب اس کی چھریاں کند ہو جاتی ہیں تو وہ دونوں چھریاں لے کر آپس میں رگڑتا ہے اس طرح چھریوں کی دھار پر جھی ہوئی چربی دور ہو جاتی ہے اور چھریاں پھر تیز ہو جاتی ہیں۔یہ لطیف مثال دے کر فرمانے لگے کچھ ہم پر غفلت کی چربی چھا جاتی ہے کچھ تم پر۔جب تم آجاتے ہو تو کچھ تمہاری غفلت دور ہو جاتی ہے اور کچھ ہماری۔پس ہم سے ملتے رہا کرو اور زیادہ عرصہ جدائی اور دوری میں نہ گزارا کرو۔۴- رامپور کے عجائبات میں سے یہ ہے کہ آپ کے ایک جگری دوست ایک صاحب میاں سبحان شاہ رامپوری کے پاس گئے اور شریعت کے متعلق کچھ عرض کیا میاں صاحب ان کی بات ہنسی میں ٹال گئے آپ کے دوست گھڑے ہو گئے میاں صاحب نے کہا آپ جاتے تو ہیں مگر آپ تو پھر بھی ہمارے یہاں آہی جائیں گے دوست نے غلیظ قسم کھائی کہ میں آپ کے یہاں ہر گز نہ آؤں گا۔جب وہ مکان پر آیا تو اس کو معلوم ہوا کہ اس کے گلے میں کوئی رسہ ڈالا گیا ہے اور زور سے کوئی کھینچتا ہے۔چنانچہ وہ | 110 | -۔