تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 578 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 578

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 570 حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی سیرت طیبہ بھی برا نہ معلوم ہوتا۔کیونکہ ان کی محبت کا پلڑا بہت بھاری تھا۔مگر انہوں نے اپنے طبعی وقار کے خلاف صرف اپنے خاص جذبہ عشق و محبت کے تحت الٹا بچہ سے سامنے کہلوایا کہ ”میں نوکر ہوں۔" ایک دفعہ جبکہ آپ گھوڑے سے گر گئے تھے۔سید نا محمود ایدہ اللہ تعالی (خلیفتہ المسیح الثانی) آپ ۲۱۵ کے پاس بیٹھے دعا کر رہے تھے اور آپ تکلیف سے کراہ رہے تھے۔کہ کئی بار پیغام آیا کہ میاں ناصر احمد صاحب تشویشناک طور پر بیمار ہیں حضرت سیدنا حضرت خلیفہ اول کی بیماری کے باعث یہ سن کر خاموش ہو گئے مگر حضرت خلیفہ اول اس وقت ہوش میں تھے آپ نے یہ بات سن لی آپ نے سید نا محمود ایده اللہ تعالیٰ کی طرف اپنا رخ مبارک کیا اور کسی قدر ناراضگی کے لہجہ میں فرمایا۔"میاں تم گئے نہیں"۔اور پھر کہا کہ تم جانتے ہو کس کی بیماری کی اطلاع آدمی دے کر گیا ہے۔وہ تمہارا بیٹا ہی نہیں۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پوتا بھی ہے اس پر سید نا کو بادل ناخواستہ اٹھنا پڑا۔ڈاکٹر بلا کر میاں ناصر احمد صاحب کو دکھلایا۔چند دنوں کے بعد خدا تعالیٰ نے ان کو شفا دے دی۔نواب عبد الرحیم خان صاحب خالد کا بیان ہے۔ہم بچوں کے ساتھ نہایت شفقت کا سلوک فرماتے تھے۔۔۔مولوی عبدالحی مرحوم فرزند حضرت خلیفہ اول کو شام کے وقت قرآن شریف کا درس دیا جاتا تھا۔اس میں ہم عمر بچے میرے منجھلے بھائی عبد اللہ خاں اور راقم دونوں نے جانا شروع کیا پہلے دن جب ہم گئے تو بہت خوشی کا اظہار فرمایا۔الفاظ یہ تھے کہ میرا گھر نور سے بھر گیا۔میاں ! تم دونوں کے آنے سے مجھے بے حد خوشی ہوئی بتائے تقسیم کئے "۔حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب نے بیان فرمایا کہ غالبا خلافت سے قبل کا واقعہ ہے کہ ایک دفعہ میری سوتیلی اور صاحبزادہ مرزا رشید احمد صاحب کی حقیقی والدہ بیمار تھیں بارہ ایک بجے شب کا وقت تھا کہ میں باہر صحن میں دیوان خانہ کے نزدیک سویا ہوا تھا۔میری والدہ کی طبیعت خراب تھی جس پر حضرت خلیفہ اول تشریف لائے۔آپ واپس جا رہے تھے کہ میرے والد (حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب الله ) نے آپ سے یہ عرض کیا کہ میں بہت شرمندہ ہوں کہ آپ کو بے وقت تکلیف دی اس پر حضرت خلیفہ اول نے میرے والد کی گردن میں بانہہ ڈال کر فرمایا۔مجھے تکلیف کیسے ہو سکتی ہے میں تو مرزا کے غلاموں کے غلاموں کے غلاموں کے غلاموں پتہ نہیں کہاں تک گننے کے بعد فرمایا۔میں تو ان کا بھی غلام ہوں۔آپ کی سیرت پر حضرت قمر الانبیاء کا جامع نوٹ بالاخر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر جامع نوٹ پر یہ باب ختم کیا جاتا ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں:۔احمد صاحب کے ایک لطیف اور