تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 579 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 579

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 571 حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی سیرت طیبہ حضرت خلیفہ اول کا پایہ حقیقتاً نہایت بلند تھا اور جماعت احمدیہ کی یہ خوش قسمتی تھی کہ اسے حضرت مسیح موعود کے بعد جبکہ ابھی جماعت میں کوئی دوسرا شخص اس بوجھ کے اٹھانے کا اہل نظر نہیں آتا تھا ایسے قابل اور عالم اور خدا ترس شخص کی قیادت نصیب ہوئی۔حضرت خلیفہ اول کو علمی کتب کے جمع کرنے کا بہت شوق تھا۔چنانچہ زر کثیر خرچ کر کے ہزاروں کتابوں کا ذخیرہ جمع کیا۔اور ایک نہایت قیمتی لائبریری اپنے پیچھے چھوڑی مگر آپ کا سب سے نمایاں وصف قرآن شریف کی محبت تھی۔جو حقیقتہ عشق کے درجہ تک پہنچی ہوئی تھی۔خاکسار نے بے شمار دفعہ دیکھا کہ قرآن شریف کی تفسیر بیان کرتے ہوئے آپ کے اندر ایک عاشقانہ ولولہ کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی تھی۔آپ نے اوائل زمانہ سے ہی قرآن شریف کا درس دینا شروع کر دیا تھا جسے اپنی خلافت کے زمانہ میں بھی جاری رکھا۔اور آخر جب تک بیماری نے بالکل ہی نڈھال نہیں کر دیا۔اسے نبھایا۔طبیعت نہایت سادہ اور بے تکلف اور انداز بیان بهت دلکش تھا اور گو آپ کی تقریر میں فصیحانہ گرج نہیں تھی۔مگر ہر لفظ اثر میں ڈوبا ہوا نکلتا تھا مناظرہ میں ایسا ملکہ تھا کہ مقابل پر خواہ کتنی ہی قابلیت کا انسان ہو وہ آپ کے برجستہ جواب سے بے دست وپا ہو کر سر دھنتا رہ جاتا تھا۔چنانچہ ایک دفعہ فرماتے تھے۔کہ فلاں معاند اسلام سے میری گفتگو ہوئی اور اس نے اسلام کے خلاف یہ اعتراض کیا اور میں نے سامنے سے یہ جواب دیا اس پر تلملا کر کہنے لگا۔میری تسلی نہ ہوئی۔گو آپ نے میرا منہ بند کر دیا۔فرمانے لگے۔تسلی دینا خدا کا کام ہے میرا کام چپ کرا دیتا ہے۔تاکہ تمہیں بتادوں کہ اسلام کے خلاف تمہارا کوئی اعتراض چل نہیں سکتا۔یہ درست ہے کہ ان معاملات میں حضرت مسیح موعود کا طریق اور تھا یعنی آپ مخالف کو چپ کرانے کی بجائے اس کی تسلی کرانے کی کوشش فرماتے تھے۔اور گفتگو میں مخالف کو خوب ڈھیل دیتے تھے۔مگر ہر ایک کے ساتھ خدا کا جدا گانہ سلوک ہوتا ہے اور یہ بھی ایک شان خداوندی ہے کہ خصم تسلی پائے یا نہ پائے۔مگر ذلیل ہو کر خاموش ہو جائے اس لئے کسی کہنے والے نے کہا ہے۔ع ہر گئے را رنگ و بوئے دیگر است" حضرت خلیفہ اول کے دل میں حضرت مسیح موعود کی اطاعت کا جذبہ اس قدر غالب تھا کہ ایک دفعہ جب ۱۹۰۵ء میں حضرت مسیح موعود دہلی تشریف لے گئے۔اور وہاں ہمارے نانا جان مرحوم یعنی حضرت میر ناصر نواب صاحب بیمار ہو گئے۔تو ان کے علاج کے لئے حضرت مسیح موعود نے حضرت مولوی صاحب کو قادیان میں تار بھجوائی کہ بلا توقف دہلی چلے آئیں۔جب یہ تار قادیان پہنچی تو حضرت مولوی صاحب اپنے مطب میں بیٹھے ہوئے درس و تدریس کا شغل کر رہے تھے اس تار کے پہنچتے ہی آپ بلا تو قف وہیں سے اٹھ کر بغیر گھر گئے اور بغیر کوئی سامان یا زاد راہ لئے سیدھے بٹالہ کی طرف روانہ ہو گئے