تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 577
تاریخ احمدیت جلد ۳ 569 حضرت خلیفتہ المسیح الاون کی سیرت طیبہ تفصیل حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے نہایت دلکش الفاظ میں رقم فرمائی ہے تحریر فرماتی ہیں۔" میرا بچپن ان کی گود میں کھیل کر گزرا اور بچپن سے ان سے پڑھنا شروع کیا روز کا آنا جانا تھا۔گویا ایک ہی گھر تھا۔۔۔بلا مبالغہ قریباً روز ہی بڑے پیار سے فرماتے کہ یہ اولاد اور یہ عبدالحی جو میری بڑھاپے کی نرینہ اولاد ہے یہ بھی تم لوگوں سے زیادہ مجھے پیارے نہیں ہم سب کے لئے مجموعی طور پر بھی ایسے الفاظ استعمال فرماتے اور خصوصیت سے اور اکثر بہت زور دے کر فرماتے کہ " محمود سے زیادہ یہ اولاد مجھے پیاری نہیں ہے "۔سالوں تک میں نے اس بات کو بہ تکرار سنا ہے۔اب تک تو دل پر یہی اثر تھا کہ چونکہ آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے انتہائی عشق تھا تو ان کی اولاد بھی پیاری تھی خصوصاً وہ جو ہر قابل جس کو ان کی نگاہ معرفت پر کچھ چکی تھی۔مگر اب میں سوچتی ہوں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے خاص مقبول بندے تھے یہ ان کا ہوئی بچوں کی گھریلو مجلس میں روزانہ محبت بہت لانا بھی کسی خاص اشارہ کی وجہ سے نہ ہو۔ضمنا ایک واقعہ بھی یاد آگیا۔آپ کے صاحبزادے میاں عبد السلام مرحوم چھوٹے تھے۔میں جب پڑھنے کو روز صبح جاتی تو ان کے لئے جیب میں بادام اخروٹ وغیرہ لے جاتی اور جیسا کہ بچوں کے کھیل ہوتے ہیں روز ہی ان سے پوچھتی کہ بتاؤ عبد السلام تم کتنے اخروٹ کے نوکر ہو ؟ وہ روز جواب دیتے دو اخروٹ کا تو کر ہوں۔ایک دن میاں عبدائی مرحوم نے غصہ سے کہا۔کہ عبد السلام نو کر کیوں کہتے ہو ؟ تم کوئی نوکر ہو ؟ کہہ دو میں نوکر نہیں ہوں۔اندر کمرے میں حضرت خلیفہ اول سن رہے تھے نہایت جوش سے کڑک کر فرمایا۔" عبد الحی یہ کیا کہا تم نے ؟ یہ نوکر ہے"۔اور فرمایا " عبد السلام اندر آؤ"۔ہم دونوں اندر گئے۔فرمایا کہو میرے سامنے ” میں نوکر ہوں"۔بچہ نے دہرا دیا۔اس جذبہ کا اندازہ وہی لگا سکتے ہیں جو حضرت خلیفہ اول کی طبیعت سے وائف آپ کی صحبت میں رہ چکے یا آپ کی سیرت کا مطالعہ کر چکے ہوں۔وہ کوہ وقار تھے۔غیور تھے۔خور دار تھے۔۔ان کا سر کبھی کسی کے سامنے نہ جھکا تھا۔جھکا تو اپنے محبوب آقا کے سامنے جھکا اور اس عشق کامل کا نتیجہ تھا کہ ان کی ایک کم عمر لڑ کی جو ان کی شاگرد بھی تھی۔اس کے لئے بھی اپنے پیارے بچے کو اتنا کہنا " کو میں نوکر نہیں ہو "۔سخت ناگوار گزرا۔آپ کا چہرہ مجھے آج تک یاد ہے ایسا اثر تھا کہ صرف غصہ اور ناگواری ہی نہیں۔بلکہ بہت صدمہ گزرا ہے۔حالانکہ جیساوہ والدین کی مانند بے انتہا لاڈ پیار مجھ سے کرتے تھے بے تکلف کرتے تھے۔ان کا حق تھا وہ بہ آسانی مجھے بھی کہہ سکتے تھے سمجھا سکتے تھے کہ بچہ سے ایسے نہیں کہلواتے ذلیل ہو جاتا ہے۔عزت نفس نہیں رہتی۔تم اس کو جو چاہو ویسے ہی دے دیا کرو۔اور مجھے بھی آپ کار و کناز را