تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 568
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 560 حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی سیرت طیبہ عمیق اور اس میں سے ہر شخص اپنی استعداد کے مطابق پانی لے رہا ہے۔درس کے دوران میں بعض دفعہ سوال بھی کیا کرتے تھے اور حضرت خلیفہ اول ہمیشہ خندہ پیشانی کے ساتھ ہر سوال کا جواب دیتے تھے اور مخاطب کے مذاق اور حالات کے پیش نظر کبھی کبھی کوئی نہ کوئی لطیفہ بھی بیان کر جاتے تھے۔مگر بعض اوقات جب آپ کو سوال کرنے میں بلا وجہ سوال پوچھنے کا میلان محسوس ہو تا تھا یا آپ خیال کرتے تھے سوال ایسا ہے کہ وہ خود توجہ دے کر اس کا جواب سوچ سکتا ہے تو ایسے موقعہ پر یا تو خاموشی کے ساتھ گزر جاتے تھے اور یا کہہ دیتے تھے کہ یہ کوئی مشکل بات نہیں ہے خود سوچو افسوس ہے کہ اس وقت کے نوٹ لینے والوں نے آپ کے اس درس کے نوٹ قلمبند نہیں کئے اور آپ کی تفسیر کا معتد بہ حصہ ضبط تحریر میں نہیں آسکا۔ہاں سننے والوں کے سینے اب تک اس بیش بہا خزانہ کے امین ہیں اور ہر احمدی تفسیر میں حضرت خلیفہ اول اے کے علم کی روشنی نظر آتی ہے۔خاکسار راقم الحروف (یعنی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب - ناقل) نے بھی جب کہ میں بی۔اے میں پڑھتا تھا۔تعلیم کا سلسلہ درمیان میں چھوڑ کر حضرت خلیفہ اول سے قرآن شریف پڑھا۔اور پورا قرآن شریف ختم کر کے پھر اپنی تعلیم کی طرف لوٹ آیا یہ بھی ایک پلک درس تھا جس میں بہت سے دوسرے دوست بھی شریک ہوتے تھے۔حضرت خلیفہ اول ان کے قرآن کے درس کا نمایان رنگ یہ ہوتا تھا کہ گویا ایک عاشق صادق اپنے دلبرد معشوق کو سامنے رکھ کر اس کے دلر با حسن و جمال اور دلکش خد و خال کا نقشہ پیش کر رہا ہے اللہ اللہ کیا مجلس تھی اور اس مجلس کا کیا رنگ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حضرت خلیفہ اول کی سیرت کا تیسرا خاص اور امتیازی پہلو یہ ہے کہ آپ حضرت مسیح موعود بے نظیر اطاعت اور فدائیت کی محبت و فدائیت اور اطاعت میں فنائیت کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے اور بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر آنحضرت ا کا عشق اور آپ پر مسیح موعود علیہ السلام کی محبت اور اطاعت ختم ہے۔اس حقیقت کو واضح کرنے کے لئے صرف چند مثالیں کافی ہوں گی۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا چشم دید واقعہ ہے کہ :۔ایک دفعہ جب ہمارا چھوٹا بھائی مبارک احمد بیمار تھا۔اور اس کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو غالبا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میرے ہاتھ ہی حضرت خلیفہ اول ان کو بلا بھیجا اس وقت مبارک احمد کی چار پائی دار المسیح کے صحن میں بچھی ہوئی تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس چارپائی پر تشریف رکھتے تھے۔حضرت خلیفہ اول تشریف لائے۔مبارک احمد کو دیکھا اور پھر حضرت