تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 566
ریت - جلد ۳ 558 حضرت خلیفہ المسیح الاول کی سیرت طیبہ شریف پر تقریر کرنے والی بنائی ہے۔اور میں ہمیشہ دیر دیر تک قرآن شریف کے عجائبات اور بلند پروازیوں پر غور کیا کرتا ہوں"۔۱۵۸ " مجھے قرآن مجید سے محبت ہے اور بہت محبت ہے قرآن مجید میری غذا ہے۔میں سخت کمزور ہو تا ہوں قرآن مجید پڑھتے پڑھتے مجھ میں طاقت آجاتی ہے " ”میں نے قرآن کریم بہت پڑھا ہے اور اب تو میری غذا ہے اگر آٹھ پر میں خود نہ پڑھوں اور نہ پڑھاؤں اور میرا بیٹا میرے سامنے آکر نہ پڑھے تو میں اس کا وجود بھی نہیں سمجھتا۔سونے سے پہلے وہ آدھ پارہ مجھے سنا دیتا ہے۔غرض میں قرآن کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔وہ میری غذا ہے"۔"میرا تو اعتقاد ہے۔کہ اس کتاب کا ایک رکوع انسان کو بادشاہ سے بڑھ کر خوش قسمت بنا دیتا ہے۔جس باغ میں میں رہتا ہوں۔اگر لوگوں کو خبر ہو جاوے تو مجھے بعض دفعہ خیال گزرتا ہے۔کہ میرے گھر سے قرآن نکال کر لے جاویں"۔ایک دفعہ فرمایا کہ ” خدا تعالی مجھے بہشت اور حشر میں نعمتیں دے تو میں سب سے پہلے قرآن شریف مانگوں گا تا حشر کے میدان میں بھی اور بہشت میں بھی قرآن شریف پڑھوں پڑھاؤں اور ناؤں"۔بعض وقت میں نے قرآن کے تین تین لفظوں کو علیحدہ چھانٹ کر دیکھا ہے کہ انہیں تین الفاظ سے میں دنیا کے تمام مذاہب کا مقابلہ کر سکتا ہوں"۔آپ کے ان اقوال کی عملی تصدیق کے لئے سینکڑوں نہیں ہزاروں واقعات پیش کئے جاسکتے ہیں کہ آپ کس درجہ عاشق قرآن تھے مثلاً آپ ایک دفعہ درس قرآن کے لئے مسجد اقصیٰ کی طرف تشریف لے جارہے تھے کہ آپ کو غلام رسول صاحب پٹھان کی دکان پر پہنچ کر اطلاع ملی کہ صوفی غلام محمد صاحب بی۔اے نے قرآن مجید حفظ کر لیا ہے۔آپ وہیں دکان کی چٹائی پر سجدہ شکر میں گر گئے۔خان ارجمند خان صاحب (سابق پروفیسر جامعہ احمدیہ) کا بیان ہے کہ حضرت خلیفہ اول ایک دفعہ غالبا مد رسہ احمدیہ کے صحن میں درس دے رہے تھے کہ آپ کے کسی بچہ نے قرآن شریف صف پر رکھ دیا آپ نے فورا اٹھا لیا۔اور بہت خفگی کا اظہار فرمایا کہ قرآن مجید کی بے ادبی ہوئی ہے۔ایک دفعہ حضرت خلیفتہ المسیح نے بارہ دوستوں کو ہدایت کی کہ اڑھائی اڑھائی پارے وہ یاد کر لیں۔ایک دفعہ فرمایا۔قرآن کریم کیسی کتاب ہے ایک دفعہ میرا جی چاہا کہ حاشیہ پر اس کی منتخب