تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 565
تاریخ احمدیت جلد ۳ 557 حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی سیرت طیبہ شام کے قریب حضرت خلیفہ اول اپنے کوٹ اور واسکٹ لٹکا کر وضو کے لئے گئے۔عبدالحی صاحب نے آپ کا کوٹ اور واسکٹ کی جیبیں دیکھیں۔اور خالی پائیں مگر جب وضو کر کے واپس آئے تو کوٹ واسکٹ پہنا اور چالیس روپے عبدالحی کو نکال کر دئے۔عبدالحی نے ہنسنا شروع کیا۔مولوی محمد جی صاحب نے بتایا کہ عبدالحی صاحب نے کہا تھا کہ یونسی کہا کرتے ہیں کہ ہماری ضرورت پوری ہو جایا کرتی ہے۔آج تو خالی ہی رہے۔حضرت خلیفہ اول بھی مسکرائے اور فرمایا کہ مجھ سے اللہ تعالی کا خاص معاملہ ہے۔جس سے کوئی واقف نہیں۔آپ اپنے خدام کو بھی توجہ دلاتے تھے کہ وہ اپنی ضرورت کے وقت خدا ہی کے آستانہ کی طرف جھکیں اور اسی پر بھروسہ کریں۔جناب ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے کا بیان ہے کہ حضرت خلیفہ اول نے اپنے آخری ایام مرض میں میاں عبدالحی صاحب مرحوم کو درس دیتے ہوئے فرمایا کہ اب ہم جا رہے ہیں جب کبھی مشکل پیش آئے خدا سے دعا کرنا کہ اے نور الدین کے خدا جس طرح تو نے نور الدین کی حاجت روائی کی ہے میری بھی مشکل دور کر۔میں امید کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس طرح تمہاری ضرورت بھی پوری کر دے گا یہ فرماتے ہوئے آپ کی آواز نمایاں طور پر بھر گئی۔عشق قرآں دو سرا نمایاں پہلو آپ کی سیرت کا عشق قرآں تھا۔آپ کے جذبہ عشق قرآن کا تصور دلانا کسی انسانی قلم کی طاقت میں نہیں۔فرمایا کرتے تھے۔۔مجھے قرآن مجید سے بڑھ کر کوئی چیز پیاری نہیں لگتی۔ہزاروں کتابیں پڑھی ہیں ان سب میں مجھے خدا ہی کی کتاب پسند آئی " - 10 ۱۵۵ میں نے دوسری کتابیں پڑھی ہیں اور بہت پڑھی ہیں مگر اس لئے نہیں کہ قرآن کریم کے مقابلہ میں وہ مجھے پیاری ہیں۔بلکہ محض اس نیت اور غرض سے کہ قرآن کریم کے نسم میں معاون ہوں "۔۱۵۶ قرآن شریف کے ساتھ مجھ کو اس قدر محبت ہے کہ بعض وقت تو حروف کے گول گول دوائر مجھے انف محبوب نظر آتے ہیں۔اور میرے منہ سے قرآن کا ایک دریا رواں ہوتا ہے اور میرے سینہ میں قرآن کا ایک باغ لگا ہوا ہے۔بعض وقت تو میں حیران ہو جاتا ہوں کہ کس طرح اس کے معارف بیان کروں " - 1 قرآن میری غذا میری تسلی اور اطمینان کا سچا ذریعہ ہے اور میں جب تک اس کو کئی بار مختلف رنگ میں پڑھ نہیں لیتا مجھے آرام اور چین نہیں آتا۔بچپن سے میری طبیعت خدا نے قرآن