تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 564 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 564

تاریخ احمدیت جلد ۳ ۱۵۰ 556 حضرت خلیفہ المسیح الاول کی سیرت طیبہ دے دیں۔آپ نے فرمایا کب جاؤ گے اس نے کہا ایک گھنٹے کو۔آپ نے فرمایا اچھا تم یکہ وغیرہ کرو اور ایک گھنٹہ کو آکر مجھ سے روپیہ لے لینا۔میں اس وقت آپ کے پاس ہی بیٹھا تھا۔آپ نے فرمایا۔دیکھو انسان پر بھروسہ کرنا کیسی غلطی ہے۔میں نے غلطی کی۔خدا نے بتلا دیا کہ دیکھو تم نے غلطی کی۔اب دیکھو میرا موٹی میری کیسے مدد کرتا ہے۔وہ ایک سو روپیہ ایک گھنٹے کے اندر اندر آپ کو مل گیا۔اور آپ نے اسے دے دیا "۔کہتے ہیں ایک دفعہ حضرت نانا جان دور الضعفاء یا نور ہسپتال کے چندے کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپ نے فرمایا۔میرے پاس اس وقت کچھ نہیں مگر حضرت نانا جان نے کئی بار اصرار کیا۔اس پر حضرت خلیفہ اول نے کپڑا اٹھایا اور وہاں سے ایک پونڈ اٹھا کر دے دیا اور فرمایا اس پر صرف نور الدین نے ہاتھ لگایا ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی روایت ہے کہ ایک دفعہ آپ کو کوئی ضرورت پیش آئی تو آپ نے دعا مانگی۔مصلی اٹھایا تو ایک پونڈ پڑا ہوا تھا۔قریشی امیر احمد صاحب بھیروی کی شہادت ہے کہ ہمارے سامنے حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں شیخ محمد چٹھی رسان کتابوں کا ایک دی۔پی لایا جو سولہ روپے کا تھا۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا۔کہ یہ کتابیں مجھے بہت پیاری ہیں اور میں نے بڑے شوق سے منگوائی ہیں۔لیکن اب ان کی قیمت میرے پاس نہیں ہے لیکن میرے مولیٰ کا میرے ساتھ ایسا معاملہ ہے کہ سولہ روپے آئیں گے اور ابھی آئیں گے۔چنانچہ ہم بیٹھے ہی تھے کہ ایک ہندو اپنا ایک بیمار لڑکا لے کر آیا۔حضرت نے نسخہ لکھ دیا۔ہندو ایک اشرفی اور ایک روپیہ رکھ کر چل دیا۔آپ نے اسی وقت سجدہ شکر کیا اور فرمایا کہ میں اپنے موٹی پر قربان جاؤں کہ اس نے تمہارے سامنے مجھے شرمندہ نہیں کیا۔اگر یہ شخص مجھے کچھ بھی نہ دیتا تو میری عادت ہی مانگنے کی نہیں۔پھر ہو سکتا تھا کہ وہ صرف ایک روپیہ دیتا یا اشرفی ہی دیتا۔مگر میرے موٹی نے اسے مجبور کیا کہ میرے نور الدین کو سولہ روپے کی ضرورت ہے اس لئے اشرفی کے ساتھ روپیہ بھی ضرور رکھو۔ایک کشمیری دوست نے آپ کو چار سو روپیہ بطور امانت دیا۔چند دن بعد اس کا تار آگیا کہ مجھے روپیہ کی ضرورت ہے۔حضرت خلیفہ اول اس وقت مطب میں بیٹھے تھے کہ کچھ وقت کے بعد شاہ پور کے دو ہندور میں حاضر ہوئے۔ایک تھالی میں پھل اور چار سو روپیہ پیش کر دیا۔ایک دن عبد الحی عرب نے کہا۔میں نے چالیس روپے قرض دینے ہیں۔آپ نے فرمایا آج سے پندرھویں دن لے لیں۔جب وقت آیا اتوار کا دن تھا کوئی منی آرڈر نہ پہنچا نہ کہیں سے روپیہ آیا۔