تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 559
تاریخ احمد بیت - جلد ۳ 551 حضرت خلیفہ المسیح الاول کی سیرت طیبہ لغیر اللہ کا آپ کو خیال نہیں۔فرماتے تھے۔ڈاکٹروں اور حکیموں میں یہ مرض ہے کہ کہتے ہیں کہ ہم نے شفاری اور اگر مریض اچھا نہ ہو۔تو کہتے ہیں خدا کی مرضی۔آپ شانی مطلق صرف خدا کو سمجھتے تھے اور اس حقیقت کی طرف بڑے لطیف رنگ میں آپ دوستوں کو توجہ دلاتے رہتے تھے۔شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی کا بیان ہے کہ میری بیوی بیمار تھیں۔میں نے حضرت خلیفہ اول سے دعا کی درخواست کی۔فرمانے لگے۔کہ بعض اوقات انسان کے پیٹ میں درد ہوتا ہے۔وہ چھوٹے حکیم کے پاس جاتا ہے۔مگر آرام نہیں آتا۔پھر ضلع یا صوبہ کے حکیم کے پاس جاتا ہے۔مگر پھر بھی آرام نہیں آتا۔بعد ازاں وہ کسی باخد ا کے پاس جاتا ہے مگر اس کی بیماری رفع نہیں ہوتی۔پھر وہ آخر خدا کے پاس جاتا ہے۔تو آرام آجاتا ہے۔ایک دفعہ فرمایا۔مرزا صاحب میں ایک محبوبیت تھی اس لئے ہم نے اپنے اپنے وطن چھوڑے لیکن جب وہ فوت ہوئے تو پھر ہمیں اس لا الہ الا اللہ کی طرف متوجہ کیا۔اور پھر اپنی محبت کا ایک گر بتایا کہ اگر تم اللہ کو محبوب بنانا چاہتے ہو تو محمد رسول اللہ ﷺ کی اتباع کرو۔یہ ایک مجرب نسخہ ہے بتلانے والا پہلے اپنے پر آزماتا ہے۔اس نے ایک راہ پر قدم مارا اور اللہ کا حبیب بن گیا۔پس اسی طرح جو اللہ کو محبوب بناتا ہے وہ اب اس راہ سے آئے۔جس راہ سے محمد رسول اللہ آئے۔آپ مدینہ منورہ میں آنحضرت ﷺ کے مزار مبارک پر دعا کر رہے تھے کہ یکایک خیال آیا کہ اصل چیز تو تو حید ہے اس لئے خانہ کعبہ جا کر دعا کرنی چاہئے۔اور اپنی دعاؤں کے لئے آنحضرت کے مزار کو واسطہ نہیں بنانا چاہئے۔یہ خیال آنا تھا کہ آپ نے مکہ کی تیاری کرلی۔خدا کی طرف منسوب ہونے والے ہر الہامی کلام کی خاص عزت و عظمت آپ کے دل میں تھی۔ایک مرتبہ شیخ محمد تیمور صاحب نے الماری پر رکھی ہوئی بائیبل پر کوئی اور کتاب رکھ دی۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا۔کہ بائیبل ہزار مبدل محرف سہی۔پھر بھی یہ خدا کی کتاب ہے۔خدا تعالی کے وعدوں پر آپ کو ایک زندہ یقین حاصل تھا۔آپ نے ایک شخص کی تعلیم پر جو ہندوؤں سے مسلمان ہوا تھا۔ہزاروں روپے خرچ کئے مگر جب وہ پڑھ چکا تو اس نے ایک خط لکھا میں اسلام کو چھوڑتا ہوں۔اس پر آپ نے اس خط کے جواب میں ایک آیت لکھ دی۔جس کا مطلب یہ تھا کہ اگر ایک آدمی تمہارے دین سے مرتد ہو جاوے۔تو خداوند کریم اپنے کرم سے قوم دیتا ہے۔چنانچہ آپ کو خدا نے اپنے فضل سے ایک شخص کے بدلے لاکھوں کی ایک فعال جماعت عطا فرما دی - 122 آپ پر آزمائش اور ابتلاء کے کئی دور آئے۔ملازمتیں گئیں۔قتل کے منصوبے ہوئے نو بچوں کی