تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 549
تاریخ احمدیت جلد ۳ 541 or حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی سیرت طیبہ باری آئی تو میں نے اپنی عزیزہ کے لکھے ہوئے حالات پیش کئے۔حکیم صاحب نے ان حالات کو غور سے پڑھتے ہوئے مجھ سے پوچھا۔کہاں سے آئے؟ میں نے عرض کیا بٹالہ سے۔پوچھنے لگے کسی محلہ میں رہتے ہو ؟ جواب دیا۔ہاتھی دروازہ میں۔پوچھا گئے زکی ہو۔عرض کیا جی ہاں۔پوچھا کس خاندان سے ہو۔میں نے بتایا کہ میاں میر محمد میرے دادا ہیں۔چونک کر کہا وہی میاں میر محمد جو صبح سے شام تک لوگوں کو مفت پڑھاتے ہیں؟ میں نے مسکر اکر کہا جی ہاں۔فرمایا وہ تو ہمارے دوست ہیں اور تم ہمارے بچے ہو۔یہاں کس کے پاس ٹھہرے ہو؟ میں نے عرض کیا۔قاضی اکمل صاحب کے پاس۔مسکرا کر کہا۔جی ہاں شاعر تو شاعری کے پاس ٹھہرے گا "۔آپ کا دربار ہر وقت کھلا رہتا اور آنے والے بلا تکلف آپ سے ملاقات کر سکتے تھے۔جمعدار فضل دین صاحب کا بیان ہے کہ بیعت کے چند دن بعد میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔فرمایا۔اب تو آپ بے تکلفی سے دیکھ رہے ہیں ایک وقت آئے گا جب لوگ خلیفہ وقت کے چہرے کے لئے ترسیں گے۔مہمانوں کی خدمت میں آپ کو ایک روحانی فرحت محسوس ہوتی تھی۔مردان کے میاں محمد یوسف صاحب کے بھائی میاں محمد احسن ابھی غیر احمدی تھے۔کہ وہ علاج کے لئے قادیان گئے حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ کھانے کا انتظام ہم خود کریں گے انہوں نے کہار قم موجود ہے۔فرمایا مجھے دے دو۔اس کے بعد علاج ہو تا رہا۔اور گاہے گاہے آپ ان کو حضرت اقدس کی مجلس میں بھی لے جاتے رہے جس کا ان پر اتنا اثر ہوا کہ انہوں نے میاں محمد یوسف صاحب کو (جو وہ بھی اس وقت غیر احمدی تھے ) خط لکھا کہ میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔میاں محمد یوسف صاحب نے کہا کہ میرا انتظار کریں۔اُس وقت دیکھا جائے گا۔چنانچہ چند دن بعد میاں محمد یوسف صاحب بھی بیوی بچوں سمیت قادیان پہنچ گئے ان کو یہی فکر تھا کہ کہیں بیعت ہی نہ کرلی ہو۔حضرت خلیفہ اول نے ان کے کھانے کا بھی انتظام فرمایا چند دن کے بعد پورے خاندان نے بیعت کر لی۔میاں محمد حسن مردان جانے لگے تو آپ نے ان کی رقم واپس کردی۔- آپ کے وطن سے غریب رشتہ دار آتے۔ان پر کمال شفقت فرماتے۔بخاری کی حدیث میں جب ماں کے رشتہ داروں سے سلوک کر کے دنیاوی فائدہ کا ذکر آیا۔تو فرمایا میری روزی کی وسعت کا ذریعہ حدیث نبوی پر عمل کرنا ہے۔تم دیکھ رہے ہو میری والدہ کی قوم کے لوگ میرے پاس اپنی اپنی ضرورت کے لئے کیسے دوڑتے آتے ہیں۔ایک دفعہ کالو نام کا لمبے قد کا جوان کئی ماہ آپ کے پاس رہا۔غرض اپنی والدہ کے اقرباء سے حسن سلوک کو روزی کی وسعت کا ذریعہ قرار