تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 548
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 540 حضرت خلیفہ المسیح الاول کی سیرت طیبہ صحبت میں بیٹھنے والوں میں سے ہر ایک شخص یہی سمجھتا تھا کہ حضور سب سے زیادہ اسی سے محبت کرتے ہیں۔چوہدری غلام محمد صاحب آپ کی خدمت میں بی۔اے میں کامیابی میں دعا کے لئے روزانہ درخواست بھجواتے تھے۔چند ہفتہ بعد حضور نے فرمایا کہ اب مجھے دعائیہ درخواست بھیجنے کی ضرورت نہیں مجھے تم ہر دعا کے وقت یاد آجاتے ہو۔چنانچہ حضور کی دعاؤں کی برکت سے وہ کامیاب ہو گئے۔۱۴۷ جن خدام سے گہرے تعلقات ہوتے انہیں خطوں میں بھی لکھ دیتے کہ ہمیں تم سے بہت محبت ہے اور دل سے چاہتے ہیں کہ آپ سے ملتے رہیں ایک دفعہ بھیرہ کے ایک دوست کو لکھا۔" آپ کو مجھ سے محبت۔مگر ملنے کی فرصت نہیں "۔اسی طرح لکھا۔" مجھے آپ سے بدل محبت ہے بھلا ہو- سکتا ہے کہ آپ کا محبت نامہ آئے اور میں خود نہ پڑھوں۔(۵ / مارچ ۱۹۱۳ء) - مخدوم محمد اعظم صاحب کے نام ایک خط لکھا۔" مجھے ان کو ایک بھی نسخہ ایسا نہیں جس کو بتانے میں قاتل ہو پھر آپ ایک تو میرے نہایت پیارے بھائی کے بھائی ہیں پھر حکیم و طبیب شریف خاندان کے۔" ۵۱ باوجود سب نشیب و فراز جاننے کے اپنے دوستوں سے مشورہ کر لیتے تھے۔مردان کی جماعت قادیان میں جلسہ پر آتی تو واپسی پر حضور سے اجتماعی ملاقات کر کے جاتی تھی۔ایک دفعہ مردان کے حضرت میاں محمد یوسف صاحب پہلے ہی چلے گئے حضرت خلیفہ اول نے پوچھا کہ میاں محمد یوسف صاحب کہاں ہیں ؟ پھر تعجب کا اظہار فرمایا کہ وہ تو ہمیشہ مل کر جایا کرتے تھے۔میاں محمد یوسف صاحب سلسلہ کے بڑے فدائی اور مخلص بزرگ تھے جب ان کو اس واقعہ کی اطلاع ملی تو وہ کچھری میں بیٹھے ہوئے تھے۔سنتے ہی کچھری میں اپنا بستر منگوایا اور سیدھے اسٹیشن کی طرف روانہ ہو گئے اور حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں قادیان پہنچے۔حضرت سے معافی مانگی اور پھر واپس مردان آئے۔آپ نہایت درجہ خلیق، ملنسار اور شگفتہ مزاج تھے اور آپ کی ملاقات سے دل کو ایک سرور حاصل ہو تا تھا۔ہر شخص آپ سے مل کر بہت خوشی سرور اور فرحت محسوس کرتا تھا۔عبدالمجید صاحب سالک لکھتے ہیں :۔”کہ ۱۹۱۲ء کا ذکر ہے میں بعض لوگوں سے ملاقات کرنے کے لئے بٹالہ سے قادیان گیا اور ایک عزیزہ کے علاج کے سلسلے میں مولانا حکیم نور الدین مرحوم و مغفور کی خدمت میں حاضر ہوا۔صبح کا وقت تھا حکیم صاحب اپنے مکان کے صحن میں تشریف رکھتے تھے بہت سے عقیدت مند اور ضرورت مند لوگوں کا جمگھٹا تھا کوئی نبض دکھا رہا تھا۔کوئی طب کی تعلیم حاصل کرنے کا خواہاں تھا۔کوئی دینی مسائل کے متعلق استفتاء کی غرض سے آیا بیٹھا تھا۔میں بھی انہی لوگوں میں بیٹھ گیا۔جب میری