تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 547 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 547

تاریخ احمدیت - جلد ۳ 539 حضرت خلیفہ البیع الاول کی سیرت طیبہ لیتے۔آپ کے پاس گھڑی کبھی نہیں دیکھی گئی۔اکثر کلک اور دیسی سیاہی استعمال فرماتے کسی وقت نب والے قلم سے بھی لکھ لیتے مگر اس سے بالکل مانوس نہیں تھے۔یا اس کو پسند ہی نہیں فرماتے تھے۔آپ مطب کے مشرقی دروازہ کے شمالی حصہ کے قریب صف پر بیٹھتے تھے۔صف پر ادنی درجہ کی اون کا بچھونا ہو تا تھا ساتھ تکیہ رکھا ہو تا سامنے معمولی سی تپائی ہوتی تھی مگر یہ پابندی نہیں تھی کہ لازماً اس پر رکھ کر ہی لکھیں اکثر دو زانو بیٹھ کر لکھتے۔خضاب کبھی استعمال نہ کیا ہمیشہ مہندی لگا یا کرتے تھے۔ماسٹر عبد الرؤف صاحب بھیروی کا بیان ہے کہ حضرت مولانا نور الدین صاحب کو میں نے دیکھا ہے کہ اگر کرتے پر بٹن ابتداء سے نہیں لگا تو آخر دم تک اس پر بٹن نہیں دیکھا گیا۔آپ کی مرغوب غذا یہ تھی کہ شوربے میں روٹی بھگو لیتے تھے۔کبھی گرمیوں میں سرد کوٹ پہنے نہیں دیکھے گئے۔سادہ پگڑی کے بیچوں میں سے مندی رنگے سرخ بال کبھی باہر نکلے ہوئے نظر آتے تھے۔ہاتھ میں لمبا عصار کھتے تھے۔غرضکہ آپ کے لباس اور کھانے اور بود و باش میں سادگی کا رنگ غالب تھا۔مگر سادگی اور بے تکلفی کے باوجود ایک خداداد رعب رکھتے تھے۔صبح سے شام تک پبلک میں رہتے مگر آپ کی وجاہت اور رعب اور دبدبہ اور شوکت میں ذرہ برابر فرق نہ آتا تھا۔خودداری میں آپ یکتائے روزگار تھے۔ایک دفعہ نواب خان زمان خاں نے اپنا مدار المهام قادیان بھیجا کہ میں بیمار ہوں۔میرے علاج کے لئے تشریف لائیں۔مہربانی ہو گی۔میں چھوٹی سی ریاست کا حکمران ہوں۔آپ نے فرمایا۔مجھے تو آنے کی فرصت نہیں اگر آپ آجا ئیں تو میں آپ کا علاج کروں گا اور آپ کا تمام خرچ میں برداشت کروں گا۔اپنے دوستوں سے خاص طور پر حسن سلوک کرنا اور ان کی خیر اور بھلائی کے لئے ہر ممکن جدوجہد کرنا آپ کا آخری دم تک شعار رہا۔ان کے لئے ہمیشہ دعائیں کرتے ان کی ضروریات کا خیال رکھتے دوستوں سے ملاقات کر کے آپ کو بے حد خوشی ہوتی۔ایک دفعہ میاں محمد لودھیانوی نے حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں آپ سے کہا کہ اگر روپیہ کی ضرورت ہو تو مجھ کو ارشاد فرما ئیں۔مگر آپ نے جواب دیا کہ تم ہمارے لئے دعا کرو کہ ہمیں آپ سے مانگنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔1909ء میں قادیان میں طاعون پھیلنے لگا۔آپ نے خدا کی جناب میں نہایت تضرع سے دعا کی کہ ابھی تیری چھوٹی سی جماعت ہے اور اس جماعت میں اس درجہ کا دعا کرنے والا بھی نہیں۔پس تو اپنا فضل کر۔اس دعا کا کرشمہ یہ ہوا کہ طاعون کا حملہ ختم ہو گیا۔جو بیمار تھا وہ بھی اچھا ہو گیا۔آپ سوتے وقت اپنے سرہانے دعا کرانے والوں کی لسٹ رکھ لیتے اور تہجد میں اٹھ کر دعا فرماتے۔حضرت خلیفہ اول کی