تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 546
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 538 حضرت خلیفہ المسیح الاول کی سیرت طیبہ ایک نہایت بلند پایہ علم دوست حجج تھے انہیں ایک دفعہ سپین کی ایک نادر کتاب کی ضرورت پیش آئی جو سارے ہندوستان میں تلاش کرنے کے باوجود کہیں نہیں لی۔آخر انہیں پتہ لگا کہ اس کا ایک قلمی نسخہ قادیان میں موجود ہے۔چنانچہ انہوں نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ کی اجازت سے اس کا یہ نسخہ عاریتاً حاصل کیا اور پھر بحفاظت واپس بھیجوا دیا۔لاریب کئی لحاظ سے حضرت خلیفہ اول کی یہ ذاتی لائبریری ہندوستان میں عدیم المثال تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنی بعض تحریروں میں آپ کے کتب خانہ کی بہت تعریف فرمائی ہے اور یہ سب کچھ ایک نہایت محدود ذرائع والے انسان کے ذاتی ذوق و شوق کا ثمرہ تھا اور پھر یہ کتابیں محض جمع کرنے کے جذبہ کے ماتحت نمائشی رنگ میں اکٹھی نہیں کی گئیں بلکہ اس وسیع کتب خانہ کی ہر کتاب حضرت خلیفہ اول کے ذاتی مطالعہ میں آتی تھی اور جابجا کتابوں کے حاشیہ پر آپ کے قلمی نوٹ پائے جاتے ہیں۔زندگی اس درجہ پاکیزہ تھی کہ دوسروں کو فرماتے تھے کہ تمہارے لئے یہ دلیل حضرت کی سچائی پر TA کافی ہے کہ میرے جیسا انسان مرزا صاحب کے غلاموں میں شامل ہو گیا۔آپ کے چچا زاد بھائی مولوی غلام قادر صاحب (جنہوں نے اسلام کی کتابوں کا ایک سلسلہ لکھا تھا) کہا کرتے تھے کہ آج اگر مولوی نور الدین صاحب میرے ساتھ ہوتے تو سارا ملک سنی ہو جاتا۔قوت فراست کا یہ عالم تھا کہ کسی مصنف کی نثر کا ایک ورق پڑھ کر بھانپ لیتے تھے کہ اس کا مذ ہب کیا ہے ؟ اور بیوی بچوں اور دوستوں اور دشمنوں سے اس کے تعلقات کیسے ہیں؟ استغناء اور قناعت میں آپ کا مقام نہایت بلند تھا۔آپ نے بار ہا فرمایا کہ میں کسی بات میں تمہارا محتاج نہیں نہ تم سے کوئی اجر مانگتا ہوں۔حتی کہ تمہارے سلاموں کا بھی خواہشمند نہیں۔جب میں رات کو سوتا ہوں تو الحمد للہ کسی کے ساتھ کوئی ناراضگی کوئی حرص میرے دل میں نہیں ہوتی اور سب سے فارغ البال ہو کر سوتا ہوں خلیفہ ہونے پر انجمن نے آپ کا وظیفہ مقرر کرنا چاہا۔مگر آپ نے اسے وصول کرنے سے بالکل انکار کر دیا۔2 بیمار ہوئے تو اپنی بیماری کے اخراجات خود ادا کئے فرمایا کرتے تھے کہ صحابہ کی طرح میں نے کبھی حضرت صاحب سے دنیا سے متعلق کوئی درخواست نہیں 70-5 باوجود اپنی شان اور وجاہت کے آپ نہایت سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔آپ کا ذاتی خرچ صرف چند روپے تھا۔تکلف اور بناوٹ سے آپ کی طبیعت کوسوں دور تھی۔اکثر پاجامہ اور کھلا کر نہ زیب تن کرتے اور سر پر عمامہ رکھتے جو لنگی وغیرہ کی طرز کا ہوتا۔صدری کا استعمال بھی فرماتے تھے۔شیخ مولانا بخش صاحب سیالکوئی خاص اہتمام سے آپ کے لئے گر گالی لاتے۔مگر آپ اس کی ایڑھی بٹھا