تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 545 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 545

تاریخ احمدیت جلد ۳ 537 حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی سیرت طیبہ فروتنی انکسار اور عاجزی میں اپنی نظیر آپ تھے ایک مرتبہ کسی جگہ ڈیڑھ روپیہ ماہوار کی نوکری کر لی مگر جب بعد میں نوکر رکھنے والے شخص کو علم ہوا کہ آپ علامہ دہر اور محدث زماں ہیں تو وہ حیران رہ گیا اور معافی مانگنے لگا۔حافظہ کی قوت اتنی زبر دست تھی کہ بچپن کی باتیں آخر تک دماغ میں نقش تھیں۔اور ان کو ایسے غیر مبہم اور واضح رنگ میں بیان فرماتے تھے کہ گویا ابھی کل کی بات ہے حق گوئی میں آپ شمشیر برہنہ تھے۔جمہوری ملکوں میں تو صحافت کی حکومت ہوتی ہے اور بڑی بڑی حکومتوں کو پریس کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑتے ہیں۔مگر آپ اخبار نویسوں کے غلط طرز عمل پر کھلی تنقید کر دیتے اور فرماتے کہ یہ دوسروں کی اصلاح پر تو تیار ہیں۔مگر اپنی اصلاح کی طرف کوئی توجہ دلا دے تو لڑنے کو تیار ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ جب تم کسی ناصح کی بات پر عمل نہیں کرتے تو تمہارا کیا حق ہے کہ اپنی بات منواؤ- دیوان کچھن داس وزیر اعظم کشمیر نے ابتداء میں بعض افغانوں کو دربان مقرر کر دیا تھا جو پشتو کے سوا کوئی زبان نہ جانتے تھے۔حضرت کو علم ہوا تو آپ نے ان کو خط لکھا کہ یہاں کے لوگ ملاقاتوں کے عادی ہیں۔میں نے سنا ہے آپ نے خطرہ کی وجہ سے پہرہ بٹھا دیا ہے مہربانی کر کے ایک وسیع کمرہ جس میں ایرانی قالین بچھا ہوا ہو ملاقات کے لئے مقرر فرما ئیں۔دیوان صاحب نے خط ملتے ہی آپ کو بلا بھیجا اور بتایا کہ آپ کا خط ملتے ہی میں نے پہرہ والوں کو موقوف کر دیا ہے۔اور ایرانی قالین بچھا دیا ہے نیز کہا کہ ریاست میں صفائی سے بات کہنے والا انسان ضروری ہے۔اب میں کسی کو ملاقات کے لئے نہ روکوں گا۔اور آپ کے لئے تو کوئی وقت مقرر نہیں آپ جس وقت چاہیں بلا تکلف تشریف لا ئیں۔حضرت خلیفہ اول کا بے پناہ علمی ذوق بڑے بڑے علماء و مفکرین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتا تھا۔آپ کو مطالعہ کا بے حد شوق تھا اور اس شوق میں آپ نے بے شمار روپیہ خرچ کر کے اپنی ذاتی لائبریری بنائی تھی۔جس میں تفسیر، حدیث اسماء الرجال ، فقہ، اصول فقہ کلام ، تاریخ تصوف سیاست منطق فلسفه صرف نحو ، ادب ، کیمیا، طب ، علم جراحی علم ہیت اور دیگر مذاہب وغیرہ کی نادر کتا ہیں موجود تھیں۔جن میں کئی قلمی نسخے بھی تھے۔اور آپ کے شوق کا یہ عالم تھا کہ خود اپنے خرچ پر مولوی غلام نبی صاحب مصری کو مصر بھجوا کر وہاں کی بعض قلمی کتابوں کی نقول منگوائیں۔اور حق یہ ہے کہ اب تک حضرت خلیفہ اول کا یہ ذاتی کتب خانہ ہی زیادہ تر جماعتی ضرورتوں میں کام آتا رہا ہے۔کئی سیاح اور زائرین قادیان میں اس کتب خانہ کو دیکھ کر حیرت زدہ ہوتے تھے کہ اس چھوٹے سے قصبہ میں علوم کا یہ نادر خزانہ کہاں سے آگیا ہے؟ سر شاہ محمد سلیمان جو فیڈرل کورٹ آف انڈیا کے