تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 534
526 خلافت اور برگزیدہ بزرگوار تھے۔علم سے ان کو عشق تھا اور فراہمی کتب کا خاص شوق تھا ان کا پیدائشی وطن بھیرہ ضلع شاہ پور ہے۔مگر عمر کا بڑا حصہ با ہر گزرا اور آخری حصہ قادیان میں۔میونسپل گزٹ (لاہور) (۱۹/ مارچ ۱۹۱۴ء) نهایت ربح وافسوس کے ساتھ لکھا جاتا ہے کہ مولوی حکیم نور الدین صاحب خلیفہ مرزائی جماعت کا کئی ہفتہ کی مسلسل اور سخت حالت کے بعد آخر ۱۳ / مارچ کو بو قبت ۲ بجے انتقال ہو گیا۔انالله وانا اليه راجعون کلام مرحوم جیسا کہ زمانہ واقف ہے ایک بے بدل عالم اور زہد اور اتقاء کے لحاظ سے مرزائی جماعت کے لئے تو واقعی پاکباز اور ستودہ صفات خلیفہ تھے۔لیکن اگر ان کے مرزائیانہ مذہبی عقائد کو نظر انداز کر کے دیکھا جائے۔تو بھی وہ ہندوستان کے مسلمانوں میں بے شک ایک عالم متبحر و جید فاضل تھے۔اللہ سے آپ کو جو عشق تھا وہ غالبا بہت کم عالموں کو ہو گا۔اور جس طرح آپ نے عمر کا آخری حصہ احمدی جماعت پر صرف قرآن مجید کے حقائق و معارف آشکارا فرمانے میں گزارا۔بہت کم عالم اپنے حلقہ میں ایسا عمل کرتے ہوئے پائے جائیں گے۔حکمت میں آپ کو خاص دستگاہ تھی۔اسلام کے متعلق آپ نے نہایت تحقیق و تدقیق سے کئی کتابیں لکھیں اور معترضین کو دندان شکن جواب دئے۔بہرحال آپ کی وفات مرزائی جماعت کے لئے ایک صدمہ عظیم اور عام طور پر اہل اسلام کے لئے بھی کچھ کم افسوسناک نہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم کو غریق رحمت کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔اخبار "وکیل" امرت سر (۱۸/ مارچ ۱۹۱۴ء) مرحوم فرقہ احمدیہ کے ممتاز ترین رکن اور مرزا غلام احمد قادیانی کے جانشین تھے۔آپ کے علم و فضل کا ہر شخص معترف تھا اور ان کے علم اور بردباری کا عام شہرہ تھا ان کی روحانی عظمت و تقدس کے خود مرزا صاحب بھی قائل تھے۔مرزا حیرت دہلوی ایڈیٹر کرزن گزٹ (دہلی) (۲۳/ مارچ ۱۹۱۴ء) حکیم صاحب سے ہمیں ذاتی تعارف حاصل تھا۔ذاتی تعارف ہی نہیں بلکہ ایک عرصہ تک ہم اور حکیم صاحب جموں میں ایک ساتھ رہے یہاں تک تعلق بڑھا ہوا تھا کہ حکیم صاحب شام کو کھانا ہر روز آندھی آئے یا مینہہ۔ہمارے مکان پر آکے کھایا کرتے تھے۔مغرب کی اور عشاء کی نماز ہم ان کے ساتھ پڑھتے تھے۔طبیعت میں مذاق بہت تھا۔نیک دل اور مخیر تھے۔صورت شکل وجیہہ تھی۔رنگت گندمی تھی۔قد لمبا تھا۔داڑھی اس قدر گھنی تھی کہ آنکھوں کے حلقوں تک داڑھی کے بال پہنچے ہوئے تھے۔جموں میں ان کے ماتحت مدر سے اور شفا خانے تھے۔جن کا انتظام نہ نہایت عمدگی اور نیک نیتی سے کرتے تھے۔اس وقت حکیم ندا محمد خان صاحب مرحوم مہاراجہ رنبیر سنگھ کے طبیب خاص تھے۔بعد ازاں مستقل اعلیٰ