تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 535
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ ہے 527 خلافت اوٹی کے آخری ایام طبیب ہو گئے تھے اور آپ کو چھ سو سے سات سو تک اخیر دم تک تنخواہ ملتی رہی۔اس عہدے میں گویا حکیم نور الدین صاحب ان کی ماتحتی میں بھی کام کیا کرتے تھے حکیم صاحب موصوف کو دو سو یا اٹھائی سو روپے کی تنخواہ ملتی تھی۔آپ تعجب سے سنیں گے کہ اس تنخواہ کا بڑا حصہ نہایت سیر چشمی اور فیاضی طلباء پر آپ خرچ کر دیا کرتے تھے۔بہت سے طلباء آپ کے ساتھ رہتے تھے۔نہ صرف ان کی تعلیم کے آپ کفیل تھے بلکہ کھانا کپڑا بھی بڑی فراخی سے انہیں دیا کرتے تھے۔آپ نے اپنی عمر میں صدہا بے خانماں اور غریب طلباء کو پرورش بھی کیا اور پڑھا بھی دیا۔شیخ عبد اللہ صاحب پلیڈ ر علی گڑھ اور ایڈیٹر ر سالہ خاتون آپ ہی کے پروردہ اور مسلمان کئے ہوئے ہیں۔شیخ صاحب پہلے کشمیری پنڈت تھے۔حکیم صاحب نے انہیں مسلمان بھی کیا اور پڑھایا لکھایا بھی۔یہاں تک کہ علی گڑھ کی تعلیم کا خرچ بھی آپ برابر اٹھاتے رہے۔غرض یہ کہ طبیعت میں ایثار کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا آپ کی زندگی کے دو ہی بڑے بڑے مذاق تھے۔ایک طلباء کی پرورش اور تعلیم دوسرے نادر الوجود کتابوں کا جمع کرنا۔بس اسی میں آپ کی تنخواہ صرف ہو جاتی تھی۔آپ بہت ہی منکسر المزاج اور خلیق تھے۔ساتھ ہی ہر ایک کام سچائی اور راستبازی سے کرتے تھے۔آپ سے آپ کے عملہ کے آدمی بہت خوش تھے۔کبھی کسی کو آپ سے وجہ شکایت نہیں پیدا ہوئی۔آپ کی دینی علوم کی مہارت اور عربی قابلیت مسلم تھی۔آپ اپنے عہد کے فرائض کی ادائیگی کے بعد طلبہ کو بخاری و مسلم کا سبق دیا کرتے تھے۔آپ کی واقفیت مذ ہی بہت بڑھی ہوئی تھی۔حکیم محمد افضل صاحب جنرل سیکرٹری پنجاب طبی کانفرنس لاہور نے لکھا : پنجاب کے نہایت مشہور طبیب ہوئے ہیں۔سن پیدائش ۱۸۴۱ء لا ہو ر۔لکھنو۔بھوپال وغیرہ میں دینی اور طبی تعلیم حاصل کی۔پھر ریاست جموں و کشمیر میں عرصہ تک ریاست کے طبیب رہے۔مہاراجہ صاحب آپ سے بہت عزت سے پیش آتے تھے۔قیام جموں کے زمانہ میں حکیم صاحب کو میرزا غلام احمد قادیانی (علیہ الصلوۃ والسلام) سے عقیدت ہو گئی۔چنانچہ مرزا صاحب کی کتاب ”براہین احمدیہ " کی تائید میں ” تائید براہین احمدیہ " تالیف کی۔ریاست سے قطع تعلق ہونے کے بعد وطن مالوف بھیرہ تشریف لے گئے۔پھر مکان بنانے کے بعد آپ قادیان چلے آئے اور میرزا صاحب کے ایماء سے قادیان میں ہی مقیم ہو گئے۔اور اہل و عیال کو بھی وہیں منگا لیا۔تھوڑے ہی دنوں میں حذاقت کا ڈنکہ بج گیا اور سل- دق۔نامردی وغیرہ کے مریض بکثرت آنے لگے۔کسی مریض کا علاج اگر یونانی طریقہ سے نہ ہو تا تھا تو آپ کو ویدک اور ڈاکٹری دوائیں اضافہ کرنے کے بعد عجیب و غریب کامیابی ہوتی تھی۔میرزا صاحب کے زمانہ حیات میں اگر ایک طرف میرزا صاحب کے اردگر و معتقدین و مریدین کا ہجوم