تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 526 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 526

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 518 خلافت اولی کے آخری ایام کا ڈر تھا اور چاروں طرف سے یہ آواز اٹھ رہی تھی کہ ہماری بیعت قبول کریں۔ہماری بیعت قبول کریں۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے چند لمحات کے تامل کے بعد جس میں ایک عجیب قسم کا پر کیف عالم تھا لوگوں کے اصرار پر اپنا ہاتھ بڑھایا اور بیعت لینی شروع کی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں۔" مجھے بیعت کے الفاظ یاد نہ تھے اور میں نے اس بات کو عذر بنانا چاہا۔اس پر مولوی سرور شاہ صاحب نے کہا میں الفاظ بیعت دہرا تا جاؤں گا آپ بیعت لیں۔تب میں نے سمجھا کہ خدا تعالیٰ کا یہی منشا ہے اور اس کے منشا کو قبول کیا اور لوگوں سے بیعت لی " - یکلخت مجلس پر ایک سناٹا چھا گیا۔اور جو لوگ قریب نہیں پہنچ سکتے تھے۔انہوں نے اپنی پگڑیاں پھیلا پھیلا کر اور ایک دوسرے کی پیٹھوں پر ہاتھ رکھ کر بیعت کے الفاظ دہرائے۔بیعت شروع ہو جانے کے بعد مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء اس مجمع سے حسرت کے ساتھ رخصت ہو کر اپنی فرودگاہ کی طرف چلے گئے۔یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ مولوی محمد علی صاحب نے صبح کے وقت مسجد میں تقریر کی۔کہ اگر میں نے بدنیتی سے ٹریکٹ لکھا تھا تو خدا مجھے پکڑے مجھے ہلاک کرے مجھے ذلیل کر دے۔عصر کے وقت وہ ایک ایسے مجمع میں کھڑے ہوتے ہیں جو اسی جماعت کا ہے جس میں پہلے کھڑے ہو کر انہوں نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ہم جو تیوں سے چندہ وصول کریں گے پھر اسی جماعت میں جس میں آپ کے ماتحت ملازم شامل تھے اس جماعت کا تھا جس میں وہ طلبا موجود تھے۔جو مولوی صدر الدین صاحب ہیڈ ماسٹر کے زیر تربیت رہتے تھے وہ اسی مجمع میں کھڑے ہوتے ہیں جس پر سید نا محمود کا کوئی زور نہ تھا کوئی حکومت نہ تھی مگر دیرینہ سیکرٹری شپ کی وجہ سے لوگ ان کے معتقد تھے اور ان کو جماعت کے معززین میں خیال کرتے تھے۔اور ان کے ترجمہ قرآن کی طرف لوگوں کی نظریں لگی ہوئی تھیں۔لیکن خدا کی قدرت جو رہ کھڑے ہوتے ہیں تو ہزاروں کے مجمع میں ایک شور بلند ہوتا ہے کہ ہم آپ کی بات نہیں سنتے۔صبح کی بد دعا کے بعد ایسے مجمع میں اس واقعہ کا ہونا۔اگر ایک اللی شہادت نہیں تو اور کیا ہے ؟ قیام خلافت کے بعد ان خدا نا ترسی لوگوں نے یہ مشہور کرنا شروع کیا کہ میاں صاحب انصار اللہ کی سازش سے خلیفہ بنے ہیں لیکن یہ الزام کس در پہ پر افتراء ہے۔اس بارے میں صرف یہ بتانا کافی ہے کہ انصار اللہ کے بعض ممبروں نے جو بعد میں مولوی محمد علی صاحب کے پر جوش اور سرگرم ساتھیوں میں شامل ہو گئے واضح شہادتنادی کہ انصار اللہ کی مجلسوں میں کبھی حضرت میاں صاحب کی خلافت کا سوال زیر بحث ہی نہیں آیا۔اور نہ اس پر کبھی گفتگو ہوئی۔اس الزام کے جھوٹا ہونے کی ایک Ar