تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 506
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 498 خلافت اولی کے آخری ایام مولوی امام الدین صاحب گولیکی نے حضرت صاحبزادہ صاحب سے گولیکی چلنے کی درخواست کی۔مگر حضرت خلیفتہ المسیح کی اجازت کے بغیر آپ کے جانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہو تا تھا۔اس لئے آپ نے معذرت کر دی۔شام کو آپ جہلم سے گوجر انوالہ پہنچے اور جماعت سے خطاب فرمایا۔دوسرے دن (یکم فروری کو صبح نہ بجے ریل پر سوار ہوئے اور شام کو بٹالہ پہنچ کر بوقت عشاء قادیان دارد ہوئے۔مباحثہ مدرسہ چٹھہ اکال گڑھ ( ضلع گوجرانوالہ) کے نزدیک ایک گاؤں مدرسہ چٹھہ ہے یہاں شیعہ حضرات سے ایک مباحثہ قرار پایا۔۲۰/ فروری کی صبح کو مولانا سید سرور شاہ صاحب اور حافظ غلام رسول صاحب اجازت و ہدایات کی غرض سے حضرت خلیفتہ المسیح کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا " دعا ئیں بہت کرو اللہ تعالٰی کے حضور گر جاؤ تکبر نہ کرنا۔پھر فرمایا کہ شیعہ کے ساتھ مناظرہ کے متعلق ہمارا اصول کسی کو معلوم ہے ؟ آپ کے اس سوال پر عرض کیا گیا کہ ہاں مگر آپ نے خود ہی اس کی تصریح کی اور فرمایا کہ ایک نشان ہے ہموا بما لم ينالوا اس اصل پر دیکھ لو کہ حضرت صدیق فاروق اور عثمان اور علی رضوان اللہ علیہم اجمعین کی کامیابیاں کس شان کی ہیں۔پھر آیت استخلاف سے استدلال کا طریق بتایا پھر اس طریق پر استدلال کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پیش کیا۔اور آپ کی کامیاب زندگی اور موت کو بطور اعجاز اور نشان پیش کر کے خلافت راشدہ کی تصدیق کی اور پھر آخر میں اپنے وجود کو ایک دلیل کے رنگ میں دکھایا اور بتايا کہ يسلب الملك من القریش کی حدیث پڑھاتے ہوئے مجھے خیال آتا تھا کہ قریش میں اب کوئی امیر المومنین نہیں ہو سکتا۔اور مجھے اپنی ذات کے متعلق تو کبھی وہم و گمان بھی نہیں آتا تھا۔مگر دیکھو خدا تعالیٰ نے مجھے کس طرح خلیفہ بنا دیا۔غرض اس طریق استدلال میں آپ نے بتایا۔کہ ہمارا طریق استدلال قرآن مجید پر مبنی ہو اور واقعات اس کی تائید کرتے ہوں اور پھر سلسلہ احمدیہ کی زندہ شہادت کو پیش کرنا چاہئے۔اور فرمایا جاؤ بڑھو۔ہمیں صحابہ بھی پیارے ہیں اور اہل بیت بھی۔حضرت مولوی سرور شاہ صاحب کے ساتھ حضرت میر محمد اسحق صاحب بھی تھے۔جو بعد میں حاضر ہوئے آپ نے ان کو ضرورت وحدت کی طرف متوجہ فرمایا۔اور نہایت لطیف پیرایہ میں بتایا کہ سعادت فضیلت اور جوانی پر گھمنڈ نہ کرنا پہلا مناظرہ ہے خدا کے حضور جھکو اور دعائیں کرو۔پھر بہت دعا کی اور یہ کہکر رخصت فرمایا۔کہ میرا دل جان روح دعا کرتی ہے کہ تم فتح مند ہو۔بہت دعا کی ہے۔مدرسہ چٹھہ میں حضرت مولانا سرور شاہ صاحب کا سید احمد شاہ صاحب آف راولپنڈی سے مباحثہ ہوا۔وہاں میرابراہیم صاحب سیالکوئی بھی فساد کی نیت سے آپہنچے تھے۔مگر احمد یوں نے کمال صبر و تحمل