تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 507 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 507

تاریخ احمدیت جلد ۳ 499 سے کام لیا اور مباحثہ امن و امان سے اختتام پذیر ہوا۔10 خلافت اوٹی کے آخری ایام حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب، حافظ مسجد احمدیه وزیر آباد کا افتتاح روشن علی صاحب اور مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کی معیت میں ۲۶ / فروری ۱۹۱۴ء کو مسجد احمدیہ وزیر آباد کے افتتاح کے لئے تشریف لے گئے وزیر آباد میں آپ نے شیخ نیاز احمد صاحب کے ہاں قیام فرمایا۔مسجد میں پہلے خطبہ پڑھا پھر نماز جمعہ کے بعد عصر تک حافظ روشن علی صاحب نے اور عصر سے مغرب تک خود حضرت صاجزادہ صاحب نے سلسلہ احمدیہ کے متعلق لیکچر دئے۔مغرب سے عشاء تک دوبارہ حضرت حافظ صاحب کا وعظ ہوا۔۲۷/ فروری کو عازم قادیان ہوئے۔آتے اور جاتے ہوئے خاندان حضرت میاں چراغ الدین صاحب کے افراد اور انصار اللہ کے ممبر آپ کے استقبال کے لئے لاہور اسٹیشن پر موجود تھے۔الحکم کے احیاء کی کوشش الحکم نہایت درجہ خطرناک مالی بحران سے دو چار ہو چکا تھا اور اندیشہ تھا کہ یہ اخبار بند نہ ہو جائے۔لہذا حضرت خلیفہ اول نے نہ صرف جلسہ سالانہ ۱۹۱۳ ء پر جماعت کے سامنے اس کے لئے اپیل کی بلکہ آئندہ کے لئے اس کے مالی انتظام کے لئے حضرت میاں صاحب کو ناظم مقرر فرمایا اور اس کے دوبارہ احیاء کے لئے اپنے پاس سے ایک ہزار ر؛ پیہ عطا کرنے کا ارشاد فرمایا۔مولوی صد ر الدین صاحب کے ولایت بھجوانے کی تجویز خواجہ کمال الدین صاحب کی طرف سے درخواست آئی کہ میری امداد کے لئے مولوی صدر الدین صاحب کو ولایت بھجوایا جائے۔چنانچہ حضرت خلیفہ اول نے مولوی صدر الدین صاحب سے فرمایا کہ ہم آپ کی عمر کے چھ مہینے مانگتے ہیں۔مولوی صاحب نے عرض کیا۔حضور ساری عمر حاضر ہے اور جانے کی تیاری شروع کر دی۔مولوی محمد علی صاحب کو چونکہ مولوی صدر الدین صاحب کا ولایت جانا پسند نہیں تھا۔اس لئے انہوں نے حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں عرض کیا کہ مولوی شیر علی صاحب تیار ہیں ان کو بھجوا دیا جائے۔ازاں بعد خواجہ کمال الدین صاحب کا تار آیا۔"REVIEW ENLARGED SEND SADDER DIN" اسلامک ریویو بڑھا دیا گیا ہے مولوی صدر الدین صاحب بھیجوا دئے جائیں۔یہ تار مفتی محمد صادق صاحب لے کر حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کے قریب ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کھڑے تھے مفتی صاحب نے تار ڈاکٹر صاحب کو دے دیا۔ڈاکٹر صاحب نے عرض کیا۔حضور خواجہ صاحب کا تار آیا ہے۔وہ دعا کے لئے درخواست کرتے ہیں۔اس پر مفتی صاحب نے کہا۔اصل -