تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 504
تاریخ احمدیت جلد ۳ 496 خلافت اولی کے آخری ایام حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں مولوی مولوی محمد علی صاحب جو صدر انجمن احمدیہ کی محمد علی صاحب کا انگریزی ترجمہ قرآن کے طرف سے انگریزی ترجمہ قرآن کے کام پر لگے ہوئے تھے۔ان ایام میں خصوصیت کے ساتھ نوٹ سنانا اور آپ کا انہیں نصیحت فرمانا حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں حاضر ہوتے اور انگریزی ترجمہ قرآن کے نوٹ سناتے تھے جن کو سن کر آپ قرآنی حقائق و معارف بیان فرماتے۔اور ضمناً بعض دوسرے امور پر بھی روشنی ڈالتے۔آپ کی دلی خواہش تھی کہ سلسلہ احمدیہ کی طرف سے انگریزی ترجمہ قرآن جلد شائع ہو۔حضرت مولانا سرور شاہ صاحب کا بیان ہے کہ حضرت خلیفتہ المسیح روزانہ بار بار مولوی محمد علی صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کرتے تھے کہ "یزید بہت ہی برا شخص ہوا ہے۔خدا نے مجھے سالم سورۃ قرآن اس کے حق میں نازل فرمائی ہوئی بتائی ہے۔اسی طرح بنی امیہ کے حق میں بھی ایک سالم سورۃ موجود ہے آپ ضرور اس کے متعلق نوٹوں میں زور زور سے لکھیں۔یہ بہت ہی برا آدمی ہوا ہے۔اس لئے کہ اس نے بڑے پاک خاندان کا مقابلہ کیا ہے " آپ بار ہا یہ کہتے ہوئے رو پڑتے تھے۔ایک دن ڈاکٹر محمد حسین وغیرہ بھی آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت نواب محمد علی خان صاحب اور چند او را احباب بھی موجود تھے کہ آپ نے بڑے زور کے ساتھ یہی بات دہرائی اور پھر زار زار رو پڑے تو جب ہم چند آدمی اس کے بعد اٹھ کر باہر نکلے تو کسی نے سوال کیا۔کہ تو اس کی کیا وجہ ہے کہ پہلے کبھی حضرت مولانا صاحب اس طرح نہ فرماتے تھے اور اب بڑے زور کے ساتھ اور بار بار کہتے ہیں اور بالخصوص مولوی محمد علی صاحب ہی کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں۔تو ہم میں سے ایک معزز شخص نے فرمایا تھا۔کہ اس کی وجہ بجز اس کے اور کوئی نہیں کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ لوگ اہل بیت کی مخالفت کرنے والے ہیں اور مولوی محمد علی صاحب ان کے رکیں ہیں۔لہذا ان کے سمجھانے اور ان پر حجت پوری کرنے کے لئے سب کچھ فرما ر ہے ہیں "۔اخبار الحکم سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات آپ نے سورہ محمد کی بعض آیات کی تفسیر کے سلسلہ میں ۲ مارچ کو بھی فرمائی چنانچہ اخبار الحکم میں لکھا ہے۔" ان تفسدوا فی الارض الخ۔(سورہ محمد ع ۳) پر فرمایا۔میں تو جب اس کو پڑھتا ہوں۔تو یزید کے متعلق پاتا ہوں۔اس پلید نے قطع ر تم کیا۔بڑا ہی بدبخت تھا۔امام حسین نبی کریم کی ذریت ہیں اس نے اتنی بڑی نسل کو بری طرح ضائع کیا ہے "۔حضرت مولوی شیر علی صاحب کا بیان ہے کہ "حضرت خلیفتہ المسیح اول کی وفات کے بعد مجھے کچھ