تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 498 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 498

تاریخ احمد بیت۔جلد ۳ ۵۰ پیغام صلح جوبلی نمبر صفحه ۵۱ 490 اخبار " الفضل " اور " پیغام صلح " کا اجراء ۵۱ سید سلیمان ندوی نے جو ان دنوں الہلال کے ادارہ میں شامل تھے اسے "وضوخانه " قرار دیا۔(حیات شیلی صفحه ۲۰۰) ۵۲ الفضل ۱۳/ اگست ۱۹۱۳ء صفحه ۳۔۵۳ - الفضل ۱۳/ اگست ۱۹۱۳ء صفحه ۳ ۵۴ اخبار زمیندار جلد ۳ نمبر ۲۳۶ اصل اخبار کا تراشه خلافت لائبریری ربوہ میں محفوظ ہے) ۵۵ الفضل ۱۳/ اگست ۱۹۱۳ء صفحہ ۳۔۵۶۔حیات شیلی صفحہ ۲۰۔۵۷ الفضل ۲۳ / جولائی ۱۹۱۳ء صفحہ ۱۶۔۵۸۔حضرت سید نا محمود ایدہ اللہ تعالٰی نے آئینہ صداقت میں لکھا ہے کہ حضرت خلیفہ اول کی اصل تحریر کچھ تصرف کے ساتھ شائع کی گئی چنانچہ بعض الفاظ کی اندرونی شہادت اس کی تائید میں ہے۔۵۹۔ملاحظہ ہو پیغام صلح ۲۰/ اگست ۱۹۱۳ء صفح ۱ - ۲ پیغام صلح ۳۱/ اگست ۱۹۱۳ء صفحه ۲۔۳۔پیغام صلح ۷ / ستمبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۲۔۳۔-۶۰ پیغام صلح 14 ستمبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۴ کالم ۱-۲- - اخبار پیغام صلح نے ۲۲ / جولائی ۱۹۱۳ء کو یہ مضمون شائع کیا۔اور ادارتی نوٹ میں لکھا: ذیل میں وہ مضمون عدیہ ناظرین کیا جاتا ہے۔جو جناب صاحبزادہ میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب نے کمال مہربانی سے باوجود کم فریحی کے پیغام صلح کے لئے قلم بند کر کے ارسال کیا تھا۔افسوس کہ کثرت مضامین کی گڑبڑ میں ہم اسے جلدی میں شائع نہ کر سکے۔مضمون کسی تعریف کا محتاج نہیں میاں صاحب ممدوح کا نام نامی اس کی خوبی اور اہمیت کی کافی مضمانت ہے۔ایڈیٹر " پیغام صلح ۲۴/ اگست ۱۹۱۳ء۔- اخبار الفضل ٩/ اگست ۱۹۱۴ء صفحه ۷ کالم ۲۔۳۔الفضل ۳۰-۲۶/ مارچ ۱۹۱۸ء صفحه از شهادت بابو محمد عثمان صاحب قریشی) ۶۵ - الحق ۲۶/ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۶ کالم ۱۔۲۔الفضل ۱۸/ اپریل ۱۹۱۳ء صفحہ ۳ کالم ہو۔اس زمانہ میں مولوی محمد علی صاحب کے رفقاء نے عجیب عجیب افواہیں اڑائیں۔مثلا یہ کہ میاں صاحب اور حضرت خلیفہ اصبح میں باہمی مخالفت ہو گئی ہے۔حضرت خلیفہ اول نے ایک خطبہ میں فرمایا۔" میرے اور میاں صاحب کے درمیان کوئی نقار نہیں جو ایسا کہتا ہے وہ بھی منافق ہے وہ میرے بڑے فرمانبردار ہیں انہوں نے مجھ کو فرمانبرداری کا بہتر سے بہتر نمونہ دکھایا ہے وہ میرے سامنے اونچی آواز بھی نہیں نکال سکتے انہوں نے فرمانبرداری میں کمال کیا ہے۔" ( الفضل ۲۳/ اکتوبر ۱۹۱۳ء صفحه ۱۵ کالم ۲) ۶۷ - الفضل ۲۵/ دسمبر ۱۹۵۷ء صفحه ۵ کالم ۱-۲- ۶۹ -21 خواجہ صاحب کی خواہش کا علم ان کے دو خطوط ت ہوتا ہے۔جو بد ر۱۱-۴/ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۳ اور پیغام صلح ۱۸ رد ممبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۳ میں شائع شدہ ہیں۔تاریخ مسجد فضل لنڈن صفحہ ؟ الفضل ۲۵/ دسمبر ۱۹۵۷ء صفحه ۵۔تاریخ مسجد فضل لنڈن صفحہ ؟ ۷۲ - الفضل یکم جنوری ۱۹۵۷ء صفحہ ۶ کالم ا۔1 ۷۳ تواریخ مسجد فضل لنڈن صفحہ 9 الفصل یکم جنوری ۱۹۵۷ء صفحہ ۶ کالم۔۷۴۔الفضل یکم جنوری ۱۹۵۷ء صفحہ ۶ کالم۔۲۔چودھری صاحب نے حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں موادی محمد علی صاحب کی اس کارروائی کی اطلاع دی تو آپ نے جواب دیا کہ مولوی محمد علی صاحب ایسے خط کی نسبت انکار کرتے ہیں چودھری صاحب نے یہ خط خواجہ صاحب کو دکھا دیا۔حضرت خلیفہ اول نے ایک خطبہ جمعہ میں پوری جماعت کے سامنے یہ فرمایا۔"تم میں سے بعض کہتے