تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 497
تاریخ احمد بیت۔جلد ۳ 489 اخبار " الفضل۔[" پیغام " کا اجراء اور جلسہ سالانہ کی تقاریر قلمبند کرنے کی سعادت نصیب ہوئی جولائی ۱۹۱۷ء سے الفضیل کی ادارت کا کام سپرد ہوا۔اور حضرت خلیفتہ اصبح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے ادارت کے سلسلہ میں مندرجہ ذیل ہدایات اپنے قلم سے لکھ کر بھجوائیں۔(1) کم از کم قرآن کریم کا ترجمہ آنا ضروری ہے اور صحاح ستہ پر عبور ہونا چاہئے۔(۲) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں پر عبور ہونا چاہئے۔(۳) غیر مذاہب کی کتابوں کی واقفیت ہونی چاہئیے۔(۴) خلیفہ وقت کی اطاعت اور اس سے وابستگی لازمی چیز ہے۔(۵) حکومت وقت کی اطاعت ضروری ہے۔(۶) احمدیت کے لئے اخلاص اور ہر قسم کی قربانی کا جذیہ ہونا چاہئے۔(تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو والفضل ۵/مئی ۱۹۵۶ء صفحه ۵) حضور ایدہ اللہ تعالی نے ان کی وفات پر فرمایا۔ان کی تعلیم زیادہ نہیں تھی صرف مڈل پاس تھے مگر بہت ذہن اور ہوشیار تھے میری جس قدر پہلی تقریریں ہیں وہ ساری کی ساری انہی کے ہاتھوں کی لکھی ہوئی ہیں۔وہ بڑے اچھے زود نویس تھے۔اور ان کے لکھے ہوئے بہت لیکچروں اور خطبات میں مجھے بہت کم اصلاح کرنی پڑتی تھی پھر وہ اخبار کے ایڈیٹر ہوئے اور ایسے زبر دست ایڈیٹر ثابت ہوئے کہ در حقیقت پیغامیوں سے زیادہ تر فکر انہوں نے ہی لے لی۔پیغام صلح کے وہ اکثر جوابات لکھا کرتے تھے اسی طرح وہ میرے ابتدائی خطبات وغیرہ بھی لکھتے رہے جو انسی کی وجہ سے محفوظ ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ ان کا جماعت پر یہ ایک بہت بڑا احسان ہے اور جماعت ان کے لئے جتنی بھی دعا ئیں کرے اس کے وہ مستحق ہیں۔" ( الفضل ۱۵ مئی ۱۹۵۶ء صفحہ ۴ کالم (r الفشل ۲۸ / مارچ ۱۹۴۶ء صفحہ ۳ کالم ۳۔الفضل ۲۵ / جون ۱۹۱۳ء صفحہ ۱۹۔۳۵۔روایت ڈاکٹر عبد الحمید صاحب چغتائی ۶۸۰ ماڈل ٹاؤن لاہور۔۳۶ روایت مستری فضل الهی صاحب مستری فضل الہی صاحب اپنے والد کے ساتھ ان دنوں بیعت کے لئے گئے ہوئے تھے۔مستری صاحب کو آشوب چشم کا عارضہ تھا جو آپ کی دوا سے جاتا رہا۔الفضل ۶ / اگست ۱۹۱۳ء صفحہ ۱ کالم الفضل ۹/ جولائی ۱۹۱۳ ء صفحہ ۱۶۔۳۹۔حکمت باللہ جلد اول صفحہ ۵۹۸۔۲۰۔حکمت بالله جلد دوم صفحه ۱۳۱- ۱۴۲۔۴۱۔حکمت بالله جلد دوم صفحه ۱۴۴ ۴۲۔حکمت باللہ جلد دوم صفحه ۱۴۵ ۴۳۔ملاحظہ ہو صفحہ الف۔۴۴ اخبار پیغام صلح جوبلی نمبر صفحه ۵۱ (۷۱۹۳۸) ۴۵۔ملاحظہ ہو ترجمہ یاد داشت شراکت مع دستور العمل پیغام صلح سوسائٹی لینڈ۔۴۶۔پیغام صلح جوبلی نمبر صفحہ ۵۱۔اخبار احق ۳۰ مکی ۱۹۱۳ء صفحہ ۱۹ کالم ۳ ۴۸ اخبار الحق ۳۰ مکی ۱۹۱۳ء صفحہ ۲۰ کالم ۲۔- الملال ان دنوں ترکی حکومت کی مدح سرائی کر رہا تھا۔پیغام صلح میں بھی ترکوں کے بادشاہ کو خلیفتہ المسلمین کے لقب سے یاد کیا جانے لگا۔چنانچہ پیغام صلح (۲۷ جولائی ۱۹۱۳ء صفحہ ۸) میں مولوی ظفر علی خاں صاحب کا جن کے پیچھے خواجہ صاحب لندن میں که ما از آن سلطانیم اخوت برملا گوید که آواز آن ما باشد نماز بھی پڑھ چکے تھے یہ قصیدہ شائع ہوا۔خلافت مدعا حذر اے دشمنان ملت بیضا ازان ساعت که جوید ✓ دست امیرما لوائے مصطفی باشد