تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 496
ریخ احمدیت۔جلد ۳۔488 اخبار " الفضل " اور "پیغام صلح " کا اجراء شریک ہوں یا نہ ہوں مگر ملک کی ایک ہی بچی اور صادق العمل جماعت نے اپنی استقامت اور راستبازی سے ان کی ضد اور ہٹ پر فتح تو ضرور پانی ہے"۔قبل ازیں ۱۳ دسمبر ۱۹۱۳ء کے ایشوع میں انہوں نے صفحہ اول پر گاندھی جی کی تصویر شائع کی اور نیچے لکھا۔"رئیس الاحرار مسٹر گاندھی۔" یہ خطرہ ایک حقیقی خطرہ تھا جس کی بہت بڑی وجہ یہ تھی کہ خواجہ کمال الدین صاحب نے تبلیغ اسلام پر جنہاں دوسرے مسلم زعماء سے ساز باز کی وہاں مولانا آزاد اور ان کے الہلال سے بھی گہرے روابط پیدا کر لئے تھے چنانچہ انہوں نے الہلال میں متعدد مضامین لکھے (مثلاً ملاحظہ ہو الحلال ۱۲ فروری ۱۹۱۳ء صفحہ ۹۱ اینا ه / اپریل ۱۹۱۳ء صفحہ ۲۳۵) مولانا آزاد نے صرف کلکتہ میں خواجہ صاحب کے حق میں پر جوش تقریر کر کے ریزولیوشن پاس کرایا بلکہ "الحلال" میں ان کی زبر دست تائید کی اور لکھا خواجہ صاحب کی نسبت مجھے یقین ہے کہ وہ خلوص و ایثار کے ساتھ اس خدمت میں مصروفی ہیں۔" الہلال ۱۴۲/ جنوری ۱۹۱۴ء) الحلال کے کاموں میں مشہور سیاسی لیڈر مسٹر بشیر حسین قدوائی کا ایک خط چھپا جو انہوں نے لندن سے بھیجا تھا کہ " جب سے میں آیا ہوں ہر جمعہ کی نماز میں شریک ہوا ہوں اور خواجہ کمال الدین صاحب کے وعظوں کو دلچپسی اور غور سے سنا ہے کبھی کسی وعظ میں سمو سے بھی انہوں نے احمد کی ہونے کا خیال نہیں کیا۔ان سے گفتگو ہوئی۔معلوم ہوا کہ گودہ احمد می ضرور ہیں مگر اس کو محض ایک ذاتی معاملہ سمجھتے ہیں وہ خاص احمدیت کی تبلیغ ہرگز ہرگز نہیں کرتے۔حاشا نہیں کرتے۔وہ خالص اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں۔اس اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں جو قرآن میں ہے۔الہال ۱۸/ مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۲۲۳ ان حالات میں بالکل واضح بات ہے که سید نا محمود ایدہ اللہ تعالٰی کا یہ خدشہ ظاہر کرتا کہ احمدی "الحلال " کو خواجہ صاحب کا ہمنو آپا کر کہیں مولانا آزاد کی سیاسی تحریک میں بھی بہہ نہ جائیں ہر گز بے محل نہیں تھا۔الفضل ۱۵/ اکتوبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۳۔۱۸۔حضرت خلیفہ اول نے اخبار کا نام ابتداء فضل رکھا تھا ( الحق ۳۰/ مئی ۱۹۱۳ء صفحہ 19) الفضل کے پر اسپکٹس کا ایک نسخہ احمدیہ بلڈنگس کی احمد یہ لائبریری میں موجود ہے۔in - الحق ۳۰ / مئی ۱۹۱۳ء صفحہ ۲۰ کالم ۱ ۲۰ الفضل ۲۸/ دسمبر ۱۹۳۹ء صفحه ۷ ۷-۷۸ الفضل ۲۸/ دسمبر ۱۹۳۹ء صفحه ۷۸ ۲۲ الفضل ۲۸/ دسمبر ۱۹۳۹ء صفحه ۷۸ ۲ - الفضل ۴ / جولائی ۱۹۲۴ و صفحه ۵ کالم ۲-۳ و الفضل ۹ / جولائی ۱۹۱۳ ء صفحه) ۲۴ الفضل ۱۴ جولائی ۱۹۲۴ء صفحہ ۶ کالم ۲۵ - الفضل ۹/ جولائی ۱۹۱۳ء صفحہ ۱ الفضل ۱۸/ جون ۱۹۱۳ء صفحہ ۳۔۲۷ الفضل ۱۴ جولائی ۱۹۲۴ء صفحہ ۵ کالم ۳۔۲۶۔۲۸- رساله خالد و ممبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۶ - ٢٩ الفضل ۴/ جولائی ۱۹۲۴ء صفحہ ۵ کالم ۳۔- الأفضل ۱۳/ نوری ۱۹۵۵، صفحہ ۲ کالم ۲۔الفضل ۲۸/ دسمبر ۱۹۳۵ء صفحه ۳۸۔۳۲۔ولادت دسمبر ۱۸۹۴ء مقام بلانی ضلع گجرات وفات ۱۸/ اپریل ۱۹۵۶ء بمقام کھاریاں (ضلع گجرات اور نیکٹر مڈل کا امتحان پاس کر کے جون کو قادیان تشریف لائے۔مضمون نویسی کا بچپن سے شوق تھا جہاں آکر حضرت خلیفہ اول حضرت سید نا محمو د ایده الله تعالی۔حضرت میر محمد اسحق صاحب۔حضرت حافظ روشن علی صاحب اور دوسرے بزرگوں کے فیض صحبت سے اور زیادہ بڑھ گیا اور آپ کے مضامین پہلے اخبار نوہر۔پھر کشمیری میگزین (لاہور) افغان (پشاور) اور پیغام صلح میں چھپنے لگے۔خلافت ثانیہ کے آغاز میں حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی کے درس قرآن لکھنے پر مامور ہوئے ازاں بعد حضور کے خطبات جمعہ