تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 495
تاریخ احمدیت جلد ۳ 487 حواشی باب ششم اخبار " الفضل “ اور ”پیغام صلح " کا اجراء ا الحکم ۲۱/۲۸ فروری ۱۹۱۳ء صفحه ۳ کالم ۳ ۳۔- الحکم ۲۸-۲۱ / فروری ۱۹۱۳ء صفحه ۱۰ کالم ۳۔ا حکم ۷۰۱۴ / مارچ ۱۹۱۳ء صفحہ ۱۰ کالم ۳۔یہ مضمون شحمید الازبان اپریل ۱۹۱۳ء میں چھپا۔۵ بحوالہ بدر ۱۳/ مارچ ۱۹۱۳ء صفحہ ۱ تا صفحه ۹ - الحکم ۲۸۰۷/ اپریل ۱۹۱۳ء صفحہ ۱ ا کالم ۲۔۔- ے۔جیسی بیاض صفحه (۹۲) یہ بیاض حضرت خلیفہ اول کے خاندان میں محفوظ ہے۔_A راقم الحروف نے قادیان میں کلام محمود کے پہلے ایڈیشن کے پروف دیکھتے ہیں۔جن سے معلوم ہوتا ہے کہ پروف ریڈنگ کی خدمت بھی قاضی صاحب ہی نے سرانجام دی تھی۔اب تک کلام محمود کے ایک درجن سے زائد ایڈیشن طبع ہو چکے ہیں۔۹ ( سرورق نمبر ۲) کلام محمود الفضل ۱۹/ ستمبر ۱۹۱۵ء صفحہ ۴ کالم ۲۔۳۔الفضل ۱۶ ستمبر ۱۹۵۷ء صفحہ ۳۔۱۲۔یہ خط ڈاکٹر بشارت احمد صاحب نے جب پیغام صلح میں شائع کیا۔تو مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری فاضل کی سرکردگی میں علمائے سلسلہ کا ایک وقد مسلم ٹاؤن میں ڈاکٹر بشارت احمد صاحب سے ملا اور کہا کہ حضرت خلیفہ اول کا خط نا مکمل صورت میں شائع کیا گیا ہے خط کے انداز سے ظاہر ہے کہ درمیان میں ایک فقرہ دیدہ دانستہ چھوڑ دیا گیا ہے جس سے مضمون خبط ہو گیا ہے۔براہ کرم اصل خط دکھائیے۔ڈاکٹر صاحب نے فرمایا جاؤ جاؤ الفضل میں جا کر شائع کر دو کہ ڈاکٹر خط نہیں دکھاتا۔لیکن جب اصرار ا ہوا تو بتایا کہ اصل خط شیخ مولا بخش صاحب لائلپوری کے پاس محفوظ ہے مگر شیخ صاحب نے وہ خط دکھانے سے صریحاً گریز کیا۔اس کے کچھ عرصہ بعد جب شیخ صاحب انتقال کر چکے تھے الفضل نے پیغام صلح سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اس چٹھی کو مکمل صورت میں شائع کرے مگر آج تک اسے اشاعت کی توفیق نہیں مل سکی ( تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو الفضل ۱۶/ ستمبر ۱۹۵۷ء صفحہ ۳) حضرت خلیفہ اول کی تحریروں کو بغور پڑھنے والے جانتے ہیں کہ آپ کے خطوط میں حد درجہ اختصار ہوا کر تا تھا۔آپ فقرات میں سے بعض الفاظ محمد ا چھوڑ دیا کرتے تھے مندرجہ بالا خط میں بھی آپ نے اختصار سے کام لیا ہے معلوم ہوتا ہے کہ تنازعے شروع ہو گئے کہ بعد کہ " کالفظ حذف فرما دیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ پہلے تو آپ لوگوں نے دوبالا " آخر " نجات ملی "مگر پھر باہم تازے شروع ہو گئے کہ نواب میر ناصر محمود نالائق بلا وجہ جو شیلے ہیں۔( مفاصل ما احظہ ہو الفضل ۲۹/ ستمبر ۱۹۵۷ء صفحہ ۳) الحکم ۷ / اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۲ کالم ۳۔۱۳ - الحق ۳۰ مکی ۱۹۱۳ء صفحہ 19 سے معلوم ہوتا ہے الفضل کا نام پہلے آپ نے " فضل " رکھا تھا۔۱۵۔اس گروہ کے قائد مولانا ابو الکلام آزاد ایڈیٹر " الہلال " تھے جو سید جمال الدین افغانی کو عمد آخر کے پیغمبرانہ اوصاف رکھنے والے مسلح یقین کرتے تھے۔(الهلال ۱۲ جولائی ۱۹۱۲ء صفحہ ۵ کالم ۳) اور مسلمانان ہند کو بالاخر کانفرنس کی چوکھٹ پر جھکا دینے کی در پردہ کوشش میں مصروف مسلمانوں کا بیشتر حصہ ان کے عزائم سے ابتداء بے خبر تھا۔مگر صاحبزادہ صاحب نے ان کی طرز تحریر سے ان کے مقاصد کو بھانپ لیا تھا۔چنانچہ وہی آزاد جنہوں نے پہلے عالم اسلام کے مسائل میں گہری دلچسپی لے کر مسلمانوں کی ہمدردیاں حاصل کرنی تھیں۔الصلال ۱۰ دسمبر ۱۹۱۳ء میں کھل کر کہنے لگے۔” وہ زمانہ گیا جب انڈین نیشنل کانگرس کی شرکت کے تصور سے مسلمان کانپ اٹھتے تھے کسی مسلمان کے لئے سب سے بڑی گالی یہ تھی کہ اسے کانگریسی کہہ دیا جائے اب تو وہ کلمہ حق جو حسین بن منصور کی زبان سے انکا تھا خود علی گڑھ کی در و دیوار سے اثبات وجود کر رہا ہے۔۔اب مسلمان کانگرس میں