تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 489 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 489

تاریخ احمدیت جلد ۳ 481 اخبار " الفضل " اور "پیغام صلح " کا اجرا نظموں میں بے اختیار ہو کر اشارہ اپنے دکھ کے اظہار کے کبھی اپنے دکھ کا اظہار نہیں کیا۔مجھے ہمیشہ تعجب آتا رہا ہے کہ لوگ اس قدر بد ظنیوں سے کیوں کام لیتے ہیں۔مجھ سے تو اس معاملہ پر اگر کسی دوست نے گفتگو کرنی چاہی تو ہمیشہ میں نے یہی کہکر ٹال دیا کہ کیا یہ لوگ جانتے ہیں کہ میں کب تک زندہ رہوں گا۔مگر افسوس کہ ظلم میں کمی ہونے کی بجائے وہ اور ترقی کرتا گیا۔حتی کہ اب وہ اپنے کمال پر پہنچ گیا ہے۔اور خدا چاہے تو شائد وقت آگیا ہے۔کہ اب وہ پھر زوال کی طرف رخ کر لے اگر مجھے خیال نہ ہوتا۔کہ شاید اس شور کا اثر ایک میرے پیارے کے دل پر نہ پڑے تو میں شاید اب بھی جواب کی طرف متوجہ نہ ہوتا۔مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ قوم کو ہلاکت سے بچانے کے لئے کچھ کہنا ضروری ہے۔میرے باپ پر جس قدر الزام لگائے گئے تھے۔یہ الزام ان کے عشر عشیر بھی نہیں لیکن وہ خدا کے مامور تھے۔اور ان سے جو خدا کے وعدہ تھے وہ مجھ سے نہیں۔اس لئے میرا ان پر کڑھنا تعجب کی بات نہیں۔افسوس میں نے اپنے دوستوں سے وہ سنا جو یوسف نے اپنے بھائیوں سے نہ سنا تھا۔میرا دل حسرت و اندوہ کا مخزن ہے۔اور میں حیران ہوں کہ میں کیوں اس قدر مورد عتاب ہوں۔بے شک وہ بھی ہوتے ہیں جو غم و راحت میں اپنی عمر گزارتے ہیں مگر یہاں تو چھاتی قفس میں داغ سے اپنی ہے رشک باغ جوش بہار تھا کہ ہم آئے امیر ہو اگر میں تبلیغ دین کے لئے کبھی باہر نکلتا ہوں تو کہا جاتا ہے کہ یہ لوگوں کو پھلانے کے لئے اپنی شہرت کے لئے اپنا اثر و رسوخ پیدا کرنے کے لئے اپنی حمایتیں بنانے کے لئے نکلتا ہے اور اس کا باہر نکلنا اپنی نفسانی اغراض کے لئے ہے۔اور اگر میں اس اعتراض کو دیکھ کر اپنے گھر بیٹھ جاتا ہوں تو یہ الزام دیا جاتا ہے کہ یہ دین کی خدمت میں کو تاہی کرتا ہے اور اپنے وقت کو ضائع کرتا ہے اور خالی بیٹھا دین کے کاموں میں رخنہ اندازی کرتا ہے اگر میں کوئی کام اپنے ذمہ لیتا ہوں تو مجھے سنایا جاتا ہے کہ میں حقوق کو اپنے قبضہ میں کرنا چاہتا ہوں۔اور قومی کاموں کو اپنے ہاتھوں میں لینا چاہتا ہوں اور اگر میں دل شکستہ ہو کر جدائی اختیار کرتا ہوں اور علیحدگی میں اپنی سلامتی دیکھتا ہوں تو یہ تہمت لگائی جاتی ہے کہ یہ قومی درد سے بے خبر ہے اور جماعت کے کاموں میں حصہ لینے کی بجائے اپنے اوقات کو رائیگاں گنواتا ہے مگر مجھے جاننے والے جانتے ہیں کہ میں عام انسانوں سے زیادہ کام کرتا ہوں۔حتی کہ اپنی صحت کا بھی خیال نہیں رکھتا۔مگر اسے جانے دو۔مجھے تو تم خود ہی بتاؤ کہ وہ کون سا تیسرا راستہ ہے جسے میں اختیار کروں۔خدا کے لئے مجھے اس طریق سے آگاہی دو۔جس پر ان دونوں راستوں کو چھوڑ کر میں قدم زن ہوں۔اللہ