تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 488
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 480 اخبار " الفضل " اور "پیغام صلح " کا اجراء کیا ہے۔وہ میرے قاتل اور خدا کے حضور وہ ان الزامات کے جوابدہ ہوں گے۔جب حضرت صاحب فوت ہوئے ہیں۔اس وقت میری عمر انیس سال کی تھی اور ہندوستان میں انیس سال کی عمر میں ابھی کھیلنے کودنے کے ہی دن سمجھے جاتے ہیں۔پس میری عمر بچپن کی حالت سے زیادہ نہیں ہوئی تھی۔جب میں نے یہ جھوٹ بولا جاتے ہوئے سنا۔میرے اس دوست نے جس نے مجھے خط لکھا ہے آج یہ اعتراض کیا ہے۔مگر یہ اعتراض بہت پرانا ہے۔اور اس وقت سے میں اس کو سنتا آرہا ہوں جب کہ میں ابھی اس کی اہمیت کو بھی نہیں سمجھ سکتا تھا۔جس وقت خلافت کا جھگڑا ہوا ہے۔اس وقت میرے کانوں میں یہ آوازیں پڑی تھیں کہ بعض نوجوان خلیفہ بننے کی خواہش میں یہ شورش برپا کر رہے ہیں۔میرے کان اس بات کو سنتے تھے مگر میرا دماغ ان کے معنوں کو نہیں سمجھ سکتا تھا۔کیونکہ میرا دل پاک تھا۔اور بالکل بے لوث تھا۔اور اس پر ہواؤ ہوس کے غبار نے کوئی اثر نہ کیا تھا۔میں نے معلوم کیا کہ ان انگلیوں کا اشارہ میری طرف ہے اور ان اقوال کا مخاطب میں ہوں میری اس وقت کیا عمر تھی اور ایسے وقت میں میرے دل پر کیا صدمات گزر سکتے تھے۔اسے خدا ہی جانتا ہے۔میرا کوئی دوست نہ تھا۔جس سے میں اس دکھ کا اظہار کر سکوں۔کیونکہ میری طبیعت بچپن سے ہی اپنے دیکھ لوگوں کے سامنے بیان کرنے سے رکتی ہے۔میرے دل پر وہ اقوال خنجر اور تلوار کی ضرب سے بڑھ کر پڑتے تھے۔اور میرے جگر کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے تھے مگر خدا کے سوا کسی سے اپنے دکھ کا اظہار نہ کرتا تھا۔اور اگر کرتا تو لوگ مجھے کیا فائدہ پہنچا سکتے تھے میں نے ان لوگوں کے بغض سے جنہوں نے یہ باتیں میرے حق میں کہیں۔ہمیشہ اپنے آپ کو بچائے رکھا۔اور اپنے دل کو میلا نہ ہونے دیا۔کیونکہ ع مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔میں سمجھتا ہوں کہ چند دن کا فتنہ ہے جو خود بخود دور ہو جائے گا۔مگر اس فتنہ نے اپنی لمبائی میں شب ہجر کو بھی مات کر دیا۔اور گھٹنے کی بجائے اور بڑھا۔میں نے کبھی معلوم نہیں کیا کہ میرا کیا قصور تھا۔سوائے اس کے کہ میں مسیح موعود کا بیٹا تھا۔کیونکہ اور بہت سے لوگ موجود ہیں جن پر یہ الزام نہیں لگائے گئے اور لاکھوں احمدیوں کے سر پر یہ بوجھ نہیں رکھا گیا۔مگر یہ قصور میرا نہیں اس کی نسبت خدا سے سوال کرو۔اگر یہ کوئی قصور تھا۔تو اس کا فاعل خدا ہے۔نہ میں۔میں خود مسیح موعود کے ہاں پیدا نہیں ہوا۔مجھے میرے مولا نے جہاں بھیج دیا۔میں آگیا۔پس خدا کے لئے مجھے اس فعل پر دکھ نہ دو۔اس واقعہ کی بناء پر مجھے مت ستاؤ۔جو میرے اختیار سے باہر ہے جس میں میرا کوئی دخل نہیں۔غرض ان مشکلات میں اپنے مولا کے سوا میں نے کسی پر توکل نہیں کیا۔اور اپنے دل کے دکھوں پر اس کے سوا کسی کو آگاہ نہیں کیا۔گو میرا دل ایک پھوڑے کی طرح بھرا ہو اتھا۔مگر سوائے کبھی کبھی اپنی