تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 480 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 480

تاریخ احمدیت جلد ۳ 472 اخبار " الفضل " اور " پیام صلح " کا اجراء " انجمن اور اس کے اراکین پر ذاتی حملے کر رہے ہیں۔مولوی محمد علی صاحب پر الزام لگائے جاتے ہیں۔پیغام صلح کی اشاعت کا سوال پیدا ہوا۔تو جھٹ "الفضل " کی اجازت خلیفہ سے مانگی گئی۔جنہوں نے ڈر کر اجازت دے دی۔ہمارے مضامین میں منتظمین پیغام کا کچھ دخل نہیں۔نہ ان کو خبر ہے۔کانپور کا واقعہ جب ہوا۔تو منتظمان پیغام نے خلیفہ رجب الدین کو ٹرمیون دے کر قادیان بھیجا۔اور مولوی صاحب کا خط منگوایا۔اگر اس کے چھاپنے میں کوئی خلاف بات کی گئی تھی تو مولوی صاحب کو چاہئے تھا اس کی تردید پیغام میں کرتے نہ کہ منتظمان پیغام پر ناراض ہوتے۔مولوی صاحب نے اخبار پیغام صلح کو کانپور کے جھگڑے کے باعث نہیں بلکہ ایک معمولی بات پر ناراض ہو کر بند کر دیا تھا۔بھائیو! تعجب ہے ایک عالم قرآن (حضرت خلیفہ اول) اس طرح بلا وجہ ایڈیٹر پیغام اور دوسرے متعلقین کو زبانی اور بذریعہ الفضل ذلیل و خوار کرنا شروع کر دیتا ہے کیا یہی انصاف اسلام سکھاتا ہے ؟ پیغام کے خلاف الحق دہلی نے جو زہر اگلا ہے۔اس کا جواب چونکہ قادیان والوں نے نہیں دیا اس لئے وہی اس کے محرک ہیں۔اس کے آگے ذاتی عیوب کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جس کا سمجھنا بغیر تفصیل کے بیرو نجات کے لوگوں کے لئے مشکل ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اہل بیت لوگوں کو ورغلا رہے ہیں۔اور بزرگان سلسلہ کو بدنام کر رہے ہیں اور جماعت کو اکسایا ہے کہ احمدی جماعت کو اس مصیبت سے بچانے کی کوشش کریں اور راقم ٹریکٹ سے اس امر میں خط و کتابت کریں۔اس ٹریکٹ کے لکھنے والے کون تھے ؟ اس بارے میں کچھ زیادہ تحقیق و تفحص کی ضرورت نہیں کیونکہ ٹریکٹ کی اندرونی اور بیرونی شہادتیں لکھنے والوں کی خود بخود نشان دہی کر رہی تھیں۔اندرونی شہادت ٹریکٹوں میں ان ہی خیالات کی اشاعت تھی جو مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء کے تھے۔اور حضرت خلیفہ اول کے خلاف لب و لہجہ بالکل ان ย خطوط کے مطابق تھا جو ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے اپنے خطوط میں اختیار کر رکھا تھا اور وہی پہلا سا الوصیت کے پس پشت ڈالنے اور شخصی وجاہت قائم نے کا اظہار ان ٹریکٹوں کی روح رواں ہے۔ٹریکٹ میں صاف لفظوں میں مولوی محمد علی صاحب کے حقیقی جانشین ہونے نیز الفضل کے خلاف اور پیغام صلح کے حق میں دل کھول کر پراپیگنڈہ کیا گیا۔بعض ٹریکٹ ایسے تھے۔جن پر معرفت اخبار " کے لفظ لکھے تھے۔بیرونی شهادت یہ ٹریکٹ اکثر جگہ پیغام صلح کی مطبوعہ چٹوں میں بند کر کے بھیجا گیا۔جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ ٹریکٹ دفتر پیغام صلح سے بھیجے گئے۔اور اس کے