تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 481 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 481

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 473 اخبار " الفضل " اور "پیغام صلح " کا اجراء متعلقین کا اس کی اشاعت میں بھاری دخل تھا۔اور ٹریکٹ میں لکھے ہوئے نظریات و عقائد محض وقتی اور ہنگامی حیثیت نہیں رکھتے تھے بلکہ خلافت ثانیہ کے قیام پر یہی نظریات و عقائد مولوی محمد علی صاحب اور ان کے تمام رفقاء کے دین و عقیدہ کے جزبن گئے اور یہ ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔ان ٹریکٹوں کی اشاعت سے دبے ہوئے فتنہ کی چنگاریاں ایک شعلہ جوالہ بن کر نمودار ہو گئیں اور اس نے پوری جماعت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔یہ فتنہ گزشتہ تمام باغیانہ فتنوں سے شدید تر اور وسیع تر تھا۔جس سے حضرت خلیفہ اول کی خفگی انتہاء تک پہنچ گئی۔چنانچہ مولوی محمد علی صاحب خود اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔” چند دنوں کے بعد لاہور سے دو گمنام ٹریکٹ نکلے جن میں کچھ نکتہ چینی حضرت مولوی صاحب کے طریق عمل پر کی تھی۔کہ پیر پرستی کی بنیاد رکھی جارہی ہے اور کچھ اعتراضات میاں صاحب پر تھے۔ان ٹریکٹوں کی وجہ سے حضرت مولوی صاحب کی پیغام صلح پر ناراضگی بہت بڑھ گئی"۔گمنان ٹریکٹوں کے علاوہ اخبار پیغام صلح نے ان کی تائید میں انصار اللہ کے نام کھلی چٹھی" کے عنوان سے یہ نوٹ لکھا۔” جو ٹریکٹ ہم نے دیکھے ہیں ان میں ذرا بھی شک نہیں کہ اکثر باتیں ان کی کچی ہیں۔جہاں تک کہ ان کے متعلق ہمارا اعلم ہے اور بعض باتیں ہمارے علم اور مشاہدہ سے بالا تر ہیں اس لئے ہم ان کی نسبت کچھ نہیں کہہ سکتے۔ہمارے خیال میں یہی رائے تمام جماعت کی ہوگی۔اب قابل غور امر یہ ہے کہ ہمیں ان باتوں کی اصلاح کرنی چاہئے یا خواہ مخواہ اپنے بے گناہ بھائیوں کو نشانہ طعن بنا کر ان کو ابتلاء میں ڈالنا چاہئے جب ہمارا حضرت مسیح موعود کی ہر بات کے ساتھ پورا پورا ایمان ہے تو دیگر فروعی باتوں کے اختلاف یا ٹریکٹ ہائے کے بیان کردہ باتوں کے ساتھ اتفاق رائے رکھنے کے جرم میں اگر ہماری نسبت غلط فہمی پھیلائی جانی لاہور انصار اللہ نے مناسب سمجھی ہے اور ہمارے خلاف کچھ لکھنے کا ارادہ کیا ہے۔تو ہماری طرف سے اگر کچھ کمی بیشی کا کلمہ لکھا گیا تو اس کی ذمہ داری بھی ان پر ہوگی۔راقم محمد منظور الھی احمدی۔میں ہر حرف سے متفق ہوں۔سید انعام اللہ " اس کھلی چٹھی نے ساری حقیقت طشت از بام کر دی تھی۔اس لئے حضرت خلیفہ اول نے اپنے خطوں میں جماعت کے بعض دوستوں کو ان چھپے ہوئے دشمنوں کے متعلق آگاہ کرتے ہوئے صاف صاف لکھا۔" آج کل ٹریکٹوں اور لاہو ر پیغام جنگ نے ایک طوفان برپا کر رکھا ہے اس لئے کسی آدمی کا روپیہ کے لئے بھیجنا اور وہ بھی نور الدین کی طرح سے پسندیدہ نہیں نیز نصر اللہ خاں سے پہلے حاکم علی صاحب خود آگئے ہیں۔مجھے خود فکر ہے نور الدین - ۲۱/ نومبر ۱۹۱۳ء