تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 479
تاریخ احمدیت جلد ۳ 471 اخبار " الفضل " اور " پیغام صلح " کا اجراء کیا جاتا ہے۔پیغام صلح کو بند کر کے خلیفہ نے جماعت کو اس سے بدظن کر دیا (پیغام صلح کی منافقانہ کارروائیوں سے تنگ آکر حضرت خلیفتہ المسیح نے اعلان فرما دیا تھا کہ اسے میرے نام نہ بھیجا کرو۔اور پھر جب یہ لوگ بھیجتے رہے تو آپ نے ڈاک سے وصول کرنے سے انکار کر دیا) جب ایک معزز طبقہ کی بے عزتی بلا وجہ وہ شخص جو جماعت میں عالم قرآن سمجھا جاتا ہے۔(یعنی خلیفہ اول) محض خلافت کی رعونت میں کر دیتا ہے تو بے سمجھ نوجوان طبقہ سے بزرگان جماعت کیا امید رکھ سکتے ہیں ؟ بزرگان قوم ان کارروائیوں کو کب تک دیکھیں گے اور خاموش رہیں گے ؟ احمد یو! دو سرے پیر زادوں کو چھوڑو اور اپنے پیرزادوں کی حالت کو دیکھو۔دوسرے ٹریکٹ کا خلاصہ یہ تھا کہ جماعت احمدیہ میں کوئی عیار نہیں۔غیر مامور کی شخصی غلامی (یعنی حضرت خلیفہ اول کی بیعت) نے ہماری حالت خراب کر دی ہے۔رسول کریم ﷺ اور حضرت مسیح موعود کے وقت میں جماعت بہت آزادی سے گفتگو کر لیتی تھی۔اب سخت تقیہ کیا جاتا ہے۔اور خلیفہ کے کان بھر کر بھائیوں کو تکلیف دی جاتی ہے۔اگر چند دن یہی حالت رہی تو احمدی پیر پرستوں اور غیر احمدی پیر پرستوں میں کوئی فرق نہ رہے گا۔حضرت مسیح موعود کے ایک سو سال بعد ہی کوئی مصلح آسکتا ہے۔اس سے پہلے نہیں۔جن کا اس کے خلاف خیال ہے وہ اپنے ذاتی فوائد کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسا خیال پھیلاتے ہیں۔جماعت کی بہتری اسی میں ہے کہ جمہوریت کے ماتحت کام کرے۔اس کے بعد جماعت میں فتنہ کی تاریخ اس طرح لکھتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کی وفات کی گھبراہٹ میں جب حضرت مسیح موعود کے احکام کو پس پشت ڈال کر جماعت نے مولوی نور الدین صاحب کو خلیفہ مان لیا۔تو اس وقت سب لوگوں کی زبانوں پر یہ کلام جاری تھا۔کہ مولوی محمد علی صاحب ہی آپ کے بعد خلیفہ ہوں گے۔حاسدوں نے اس امر کو دیکھ کر بیوی صاحبہ (ام المومنین) کی معرفت کارروائی شروع کی۔اور ان کی معرفت خلیفہ کو کہلوایا کہ آپ کی بیعت تو ہم نے کرلی۔ہم کسی ارائیں وغیرہ کی بیعت نہیں کریں گے۔جس پر مولوی صاحب نے ان کی حسب مرضی جواب دے کر ٹال دیا۔اس کے بعد انجمن کے معاملات میں دخل دینے اور مولوی محمد علی صاحب کو تنگ کرنے کے لئے ہر جائز و ناجائز کوشش شروع ہو گئی۔پھر میر محمد اسحق صاحب کے ذریعہ ایک فساد کھڑا کر دیا گیا۔(ان سوالات کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر میں پہلے تاریخ سلسلہ کے بیان میں کر چکا ہوں) اور کارکنان انجمن کے خلاف شور ڈال دیا گیا۔اور مرزا محمود صاحب کو مدعی خلافت کے طور پر پیش کیا جانے لگا۔اور مشہور کیا گیا کہ انجمن کے کارکن اہل بیت کے دشمن ہیں۔حالانکہ یہ غلط ہے۔اہل بیت قوم کا روپیہ کھا رہے ہیں۔اور