تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 478 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 478

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 470 اخبار " الفضل " اور "پیغام صلح " کا اجراء مومن کے لئے کوئی بشارت ہے تو اس سے امت میں اگر کوئی کرامت ہے تو اس سے آخر مارچ ۱۹۱۴ء میں اخبار مذکور نے ایک مضمون میں جماعت کو اس طرف توجہ دلائی کہ "ہمارا سلسلہ کوئی گدی نشینی کا سلسلہ نہیں۔ہم ایک نبی کے سلسلہ کے ممبر ہیں" لاہور سے گمنام ٹریکٹوں کی اشاعت وسط نومبر ۱۹۱۳ء کا واقعہ ہے کہ لاہور سے اظہار پیغام صلح کی تائید اور حضرت خلیفہ الحق نمبر1۔اظہار الحق نمبر سے دو خفیہ ٹریکٹ شائع ہوئے۔پہلا ٹریکٹ چار صفحہ کا تھا اور دو سرا اول کی شدید ناراضگی آٹھ صفحہ کا۔دونوں کے آخر میں نام کی بجائے ” داعی الی الوصیت" کے الفاظ لکھے تھے۔پہلے ٹریکٹ کا خلاصہ یہ تھا کہ اس زمانہ میں جمہوریت کی اشاعت اس بات کی طرف اشارہ کرتی تھی کہ اس زمانہ کا مامور بھی جمہوریت کا حامی ہو گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔حضرت مسیح موعود سوائے ان امور کے جن میں وحی ہوتی احباب سے مشورہ کر لیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ ہمیں خدا تعالیٰ نے اس لئے مامور کیا ہے کہ انسانوں کی شانیں جو حد سے زیادہ بڑھا دی گئی ہیں ان کو دور کریں۔اور جب آپ کو اپنی وفات کے قرب کی خبر خد اتعالیٰ نے دی۔تو آپ نے اپنی وصیت لکھی اور اس میں اپنے بعد جانشین کا مسئلہ اس طرح حل کیا۔کہ آپ کے بعد جمہوریت ہو گی۔اور ایک انجمن کے سپرد کام ہو گا۔مگر افسوس کہ آپ کی وفات پر جماعت نے آپ کے فرمودہ کو پس پشت ڈال کر پیر پرستی شروع کر دی اور جمہوریت کے رنگ کو نسیا منسیا کر دیا۔اس وقت جماعت میں بہت سے لوگ ایسے موجود ہیں۔جنہوں نے بیعت مجبوری سے کی ہے ورنہ ان کے خیال میں اس بیعت لینے والے کی نسبت ( حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول) بہتر لوگ جماعت میں موجود ہیں۔اور اس امر کا اصل و بال کارکنان صدر انجمن احمدیہ پر ہے جنہوں نے بانی سلسلہ کی وفات پر جماعت کو پیر پرستی کے گڑھے میں دھکیل دیا۔اب یہ حال ہے کہ حصول گدی کے لئے طرح طرح کے منصوبے کئے جاتے ہیں اور ایک خاص گروہ انصار اللہ اس لئے بنایا گیا ہے تا قوم کے جملہ بزرگواروں کو نیچا دکھایا جاوے۔انصار اللہ کا کام ظاہر میں تو تبلیغ ہے لیکن اصل میں بزرگان دین کو منافق مشہور کرنا ہے۔مولوی غلام حسن صاحب پشاوری۔میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی۔مولوی محمد علی صاحب۔خواجہ کمال الدین صاحب شیخ رحمت اللہ صاحب۔ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب۔ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب۔ان لوگوں کو قابل دار بتایا جاتا تھا۔حضرت مسیح موعود نے صاف طور پر انجمن کو اپنا جانشین قرار دیا ہے۔نہ کسی واحد شخص کو۔حضرت مسیح موعود نے صاف لکھ دیا ہے کہ آپ کے بعد صد را مجمن احمدیہ کا فیصلہ ناطق ہو گا۔اب جماعت کی حالت کو دیکھو کہ غیر مامور کی ہر ایک بات کو تسلیم