تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 477 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 477

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 469 اخبار " الفضل " اور "پیغام صلح " کا اجراء خلیفہ اول گھوڑے سے گرنے کے باعث بیمار تھے۔آپ کو خواب آئی کہ میری جیب میں کسی نے ایک روپیہ ڈال دیا ہے۔اس کی تقسیم یہ ہوئی کہ ایک لڑکا ہو گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔۹/ جون ۱۹۱۴ء کو آپ سب سے چھوٹے صاحبزادہ کا انتقال ہوا۔اخبار ”پیغام صلح" کی طرف سے نبوت ادارہ اخبار پیام صلح نے ۱۶/ اکتوبر ۱۹۱۳ء کے سیح موعود سے متعلق واضح اعلان پرچہ میں یہ اعلان شائع کیا۔معلوم ہوا ہے کہ بعض احباب کو کسی نے غلط فہمی میں ڈال دیا ہے کہ اخبار ہذا کے ساتھ تعلق رکھنے والے یا ان میں سے کوئی ایک سید نا رہ دینا حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کے مدارج عالیہ کو اصلیت سے کم یا استخفاف کی نظر سے دیکھتا ہے۔ہم تمام احمدی جن کا کسی نہ کسی صورت میں اخبار "پیغام صلح" کے ساتھ تعلق ہے خدا تعالیٰ کو جو دلوں کے بھید جانے والا ہے حاضر و ناظر جان کر علی الاعلان کہتے ہیں کہ ہماری نسبت اس قسم کی غلط فہمی پھیلانا محض بہتان ہے۔ہم حضرت مسیح موعود و مہدی معہود کو اس زمانہ کا نبی۔رسول اور نجات دہندہ مانتے ہیں اور جو درجہ حضرت مسیح موعود نے اپنا بیان فرمایا ہے اس سے کم و بیش کرنا موجب سلب ایمان سمجھتے ہیں۔ہمارا ایمان ہے کہ دنیا کی نجات حضرت نبی کریم اور آپ کے غلام حضرت مسیح موعود پر ایمان لائے بغیر نہیں ہو سکتی۔اس کے بعد ہم اس کے خلیفه بر حق سید ناد مرشد نا و مولانا حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفتہ المسیح کو بھی سچا پیشوا سمجھتے ہیں۔اس اعلان کے بعد اگر کوئی ہماری نسبت بدظنی پھیلانے سے باز نہ آئے۔تو ہم اپنا معاملہ خدا پر چھوڑتے ہیں۔وافوض امرى الى الله ان الله بصير بالعباد اخبار میں اگر کسی قسم کی غلطی ہو جائے تو ہم ہر وقت اپنی غلطی مانے پر تیار ہیں۔ہم نے اخبار کو محض خدمت اسلام کے لئے جاری کیا ہے۔یہ نام و نمود یا دنیاوی مفاد کے لئے ہم اپنے بھائیوں سے حسن ظنی چاہتے ہیں اور بس۔ہمارے کام کا اجر تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔والسلام " - پیغام صلح کے اس اعلان کو احمدی حلقوں میں بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔چنانچہ اخبار الحق نے لکھا " جو دل خوشکن نوٹ معزز " پیغام صلح" کی کارکن پارٹی نے شائع کیا ہے وہ نہایت ہی قابل قدر ہے اور بہت سی غلطیوں کا ازالہ کرنے والا ہے۔۔۔۔پیغام صلح سوسائٹی کو اس جرات پر مبارک باد دیتے ہیں "۔چند ماه بعد "پیغام صلح" نے ختم نبوت کی تشریح میں ایک نظم بھی شائع کی جس کے چند شعر یہ تھے۔کیا ختم رسالت نے کمال اپنا دکھایا امت میں ہے دریائے نبوت کو بہایا اس فیض کے ملنے سے ہوئے خیر اہم ہم کیا حرج ہے امت میں نبی بن کے گر آیا