تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 471
تاریخ احمدیت جلد ۳ 463 اخبار " الفضل " اور "پیغام صلح " کا اجراء ہیں مسیح موعود کا قائم کردہ سلسلہ اپنی پیج دین سے ہلتا ہوا نظر آتا ہے۔زندگی سے دل سرد ہے اور دماغ افکار و آلام سے پر اگر دل کو ڈھارس ہے تو یہ کہ خدا کے وعدے ہیں کہ وہ اس سلسلہ کو بڑھائے گا۔ہاں خواہش ہے کہ ہمارے ہوتے ہو جائے تو ہماری آنکھیں بھی ٹھنڈی ہوں اگر تسلی ہے تو یہ کہ خدا کا وعدہ ہے اور حضرت صاحب فرماتے تھے مجھے روزانہ یہ الہام ہوتا ہے اور کوئی اور الہام اس کثرت سے نہیں ہوا جتنا کہ انی ملک و مع املک۔پس اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ لوگ ہماری مخالفت ضرور کریں گے۔اور خدا ہمارے ساتھ ہو گا۔ہاں ڈر ہے تو یہ کہ اپنی غفلتوں سے اپنے ساتھ محبت کرنے والوں کو بھی گمراہی کے گڑھوں میں نہ ڈال دیں۔علم نہیں ہمت نہیں صحت کمزور ہے بوجھ بہت زیادہ ہے اور کام اہم ہے خدا ہی رحم کرے تو کام چلے اس لئے میرے سرداری آقا کے نماز پڑھنے کے مقام پر ان گلیوں میں جن میں وہ چلتا تھا۔اس کے مکان کے ارد گرد گھوم گھوم کر جو ابراہیم نے بنایا تھا اس میدان میں جو آپ نے قبولیت دعا کے لئے پسند فرمایا۔مزدلفہ میں مقام ابراہیم کے پاس میرے لئے دعا کریں۔میری دعاؤں کو تو وہ یہیں سے سنتا ہے میری فریاد کو ہمیں پہنچتا ہے۔مگر ایک آرزو ہے ایک عشق ہے جو تمنا کرتا ہے کہ محبوب کے سواد اور اس کی جائے رہائش میں بھی کچھ عرض کروں "۔| AF | 19 ستمبر کی رات کو حضرت خلیفہ اول ذات الجنب کی حضرت خلیفہ اول کے پنجابی اشعار بیماری میں مبتلا تھے۔شدت تکلیف میں آپ پر ایک خاص کیفیت طاری ہوئی اور آپ نے پنجابی میں چند دعائیہ اشعار لکھے۔جن کا مفہوم یہ تھا کہ میں ڈوب رہا ہوں اے میرے خدا تو میرا ہاتھ پکڑ لے کہ تیرے سوا کوئی دستگیر نہیں ہے ہم بے آسروں کا تنہا تو ہی آسرا ہے اب میں کیا حال سناؤں کہ نوبت کہاں تک آپہنچی ہے اپنے بیگانے ہو گئے دنیا پر سخت تاریکی چھا گئی۔فضا کہر آلود ہو گئی گرداب بلا انتہا کو پہنچ گئے اب تو ہی ہے کہ ہمیں اس طوفان سے پار نکال دے۔دوست صرف سکھ میں ہی کام آتے ہیں دکھ درد میں بھلا کون کسی کا شریک ہوتا ہے۔خدا کرے میں دین پر قائم رہوں اور نور دین ہی بن جاؤں تا اپنے محبوب کے دربار تک رسائی کی کوئی صورت نکل آئے۔AP ان اشعار کے بارے میں بعد کو آپ نے خود ہی فرمایا۔ایک خاص وقت کا میرا ذوق ہے اس وقت میں شعر کہنے کے سوائے رہ ہی نہ سکتا تھا"۔جماعت احمدیہ شملہ کا سالانہ جلسہ حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب ایدہ اللہ تعالٰی کی طبیعت ناساز تھی اس لئے آپ مولوی سید سرور شاہ صاحب کے ساتھ تبدیلی آب و ہوا کے لئے ۱۸ ستمبر ۱۹۱۳ء کو شملہ تشریف لے گئے۔AC