تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 467
تاریخ احمدیت جلد ۳ 459 اخبار " الفضل " اور " پیغام صلح " کا اجراء پیغام صلح میں برادران کے نام کھلا خط شائع کر دیا۔جس میں لکھا ” میری تجویز یہ ہے کہ جناب مولانا مولوی محمد علی صاحب کو بہت جلد یہاں بھیج دیا جاوے اور میں ان کے ہمراہ دو ڈیڑھ ماہ رہوں۔جب ان کا یہاں کے احباب سے رابطہ ہو جائے تو میں ہندوستان آجاؤں۔موجودہ صورت میں اگر میں چلا آؤں تو پھر چودھری فتح محمد صاحب اور شیخ نور احمد صاحب دونوں کے لئے اس اہم اور بھاری کام کا چلانا سخت دشوار ہو جائے گا۔اس لئے جتنی جلدی ہو سکے جناب مولوی محمد علی صاحب کو یہاں بھیجنے کا انتظام کریں۔یہی پیغام جلسہ سالانہ کے موقعہ پر ان کی طرف سے آیا۔یہ تو بیرونی رنگ میں ان کی چوہدری صاحب کے واپس بھیجوانے کی جدوجہد تھی۔جہاں تک تبلیغ اسلام کے کام کا تعلق تھا انہوں نے چوہدری صاحب کو سختی سے ہدایت دی کہ تبلیغ کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام ہرگز نہیں لینا۔اس اختلاف کی بناء پر چوہدری صاحب و کنگ چھوڑ کر فوکسٹن چلے آئے اور حضرت خلیفہ اول تک اصل واقعات بھجوا دئے۔حضور نے حکم بھیجا کہ فور اور کنگ واپس چلے جاؤ اور تبلیغ میں جب موقع ملے۔حضور کا نام ضرور لیں۔تبلیغ ہی کے لئے تو میں نے آپ کو بھیجا ہے۔تبلیغ سے آپ کو کوئی روک نہیں سکتا اور نہ کسی کا حق ہے۔باقی امور میں آپ خواجہ صاحب کی اطاعت کریں۔کیونکہ وہ امیر ہیں اس پر آپ پھر دو کنگ آگئے اور حضرت خلیفہ اول کے منشاء کے مطابق تبلیغ کرتے رہے۔آپ ہی نے مسجد دو کنگ کا افتتاح کیا اور سب سے پہلا پالک لیکچر دیا۔جس کا اعتراف خواجہ صاحب نے اسلامک ریویو" میں بھی کیا۔حضرت خلیفہ اول کی وفات پر چونکہ خواجہ صاحب خلافت سے ہمیشہ کے لئے کٹ گئے اس لئے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی کے حکم سے لنڈن آگئے اور وہاں سب سے پہلا احمد یہ مسلم مشن قائم کر دیا۔جواب کامیابی سے چل رہا ہے۔خواجہ صاحب قبل ازیں چوہدری صاحب کو کہہ چکے تھے کہ تم ہندوستان چلے جاؤ۔ہم مل کر کام نہیں کر سکتے۔واپسی کا کرایہ میں ادا کر دیتا ہوں۔تمہارے والد میرے دوست ہیں۔میں ان سے رقم وصول کرلوں گا۔چوہدری فتح محمد صاحب کا عریضہ " تحریک وقف زندگی" پر لبیک کہتے ہوئے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام چوہدری فتح محمد صاحب سیال نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو درخواست لکھی تھی۔جس کے نام اور حضور کا جواب پر حضور نے اپنے قلم سے اظہار خوشنودی فرمایا۔اس درخواست اور حضور کے جواب کا عکس درج ذیل ہے :