تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 457
تاریخ احمدیت جلد ۳ 449 اخبار " الفضل " اور "پیغام صلح " کا اجراء چنانچہ خدا کے فضل سے اس مخالفت کے باوجود جماعت کا رجحان "الفضل" کی طرف بڑھنا شروع ہوا اور اخبار پیغام صلح اور اس کے ہمنواؤں کی مخالفت کے باوجود الفضل کی خریداری بڑھنے لگی۔اس ترقی میں خدا کے فضل کے ساتھ ساتھ اس کے بلند معیار اور عظیم افادیت کا بھاری دخل تھا۔عہد خلافت اولی میں اخبار الفضل نے تاریخی، ملکی ، جماعتی، تبلیغی ، سیاسی اور اخلاقی غرض کہ ہر قسم کے مضامین میں پوری جماعت کی راہ نمائی کی۔اور میدان صحافت میں یہاں تک اپنا سکہ بٹھالیا کہ "الحلال" کے ایڈیٹر مولوی ابولکلام صاحب آزاد انہی دنوں قید ہوئے تو ان کے سیکرٹری نے آپ کی خدمت میں چٹھی لکھی کہ مولانا آزاد کو گورنمنٹ نے نظر بند کر دیا ہے۔ان سے پوچھا گیا کہ ہم آپ کو ایک اخبار کی اجازت دیتے ہیں تو انہوں نے صرف الفضل کی اجازت مانگی۔خلافت ثانیہ کے قیام پر جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو منصب خلافت پر فائز فرما دیا۔قمرالانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اس کی ادارت سنبھالی اور پرنٹر و پبلشر حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی تجویز ہوئے ۲۷/ اگست ۱۹۱۴ء تک کے پرچے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی ادارت میں نکلتے رہے پھر عملی طور پر یہ ذمہ داری حضرت قاضی اکمل صاحب نے اٹھالی اب الفضل کا حلقہ عمل روز بروز وسیع ہوتا جارہا تھا۔اور قاضی صاحب کے ذمہ الفضل کی مینجری کے علاوہ اور کام بھی تھے۔اس لئے ایک مستقل ایڈیٹر کی ضرورت محسوس ہوئی۔جس پر ماسٹر احمد حسین صاحب فرید آبادی کی خدمات حاصل کی گئیں۔مگر ا ا/ جنوری ۱۹۱۶ ء سے حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب فاضل کے سپرد ادارت ہو گئی۔چند دن کے بعد پھر حضرت قاضی اکمل صاحب ہی ایڈیٹر بنا دئے گئے۔ازاں بعد ۴ جولائی ۱۹۱۶ء سے اس کے مستقل ایڈیٹر خواجہ غلام نبی صاحب بلانوی مقرر ہوئے۔جنہوں نے ۳۰ برس تک یہ ذمہ داری نہایت کامیابی سے سنبھالی۔۱۸/ نومبر ۱۹۴۶ء سے ادارت کا کام شیخ روشن دین صاحب تنویر بی اے۔ایل ایل بی کے سپرد کیا گیا جو آن تک یہ اہم خدمت خوش اسلوبی سے سرانجام دے رہے ہیں۔الفضل ابتداء ہفتہ وار تھا۔دسمبر ۱۹۱۳ء کے سالانہ جلسہ پر تین دن یعنی ۲۶ تا ۲۸/ دسمبر اس کا روزانہ لوکل ایڈیشن شائع ہوا۔خلافت ثانیہ کے قیام سے لے کرے / نومبر ۱۹۱۵ء تک ہفتہ میں تین بار چھپتا رہا۔بعد ازاں دو بار کر دیا گیا۔۳۱/ جولائی ۱۹۲۴ء سے ۸/ دسمبر ۱۹۲۵ء تک اس کی اشاعت ہفتہ میں تین بار رہی۔11/ دسمبر ۱۹۲۵ء سے ہفتہ میں پھر دو بار ہو گیا۔۲۲/ اپریل ۱۹۳۰ء سے اس کی ہفتہ میں چار بار اشاعت ہونے لگی۔پھر ۳۰ / مئی سے تین بار اور / مارچ ۱۹۳۵ء تک سہ روزہ ہی رہا۔مد و جزر کے اس وسیع سلسلہ کے بعد آخر ۸ / مارچ ۱۹۳۵ء سے الفضل مستقل طور پر روزانہ کر دیا گیا۔