تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 447 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 447

تاریخ احمدیت جلد ۳ 439 اخبار " الفضل" اور "پیغام صلح " کا اجراء حضرت خلیفہ اول قرآن مجید کا درس پانچ مرتبہ دے چکے بخاری شریف کا ایک عام درس تھے کہ آپ نے مارچ ۱۹۱۳ء سے قرآن کے درس سے پہلے بخاری کا بھی عام درس شروع فرما دیا۔اور ایڈیٹر الحکم شیخ یعقوب علی صاحب تراب حضرت کے حکم سے اسے مرتب کرنے لگے۔یہ درس کئی ماہ تک اخبار بد ر میں بطور ضمیمہ چھپتا رہا۔پادری غلام مصیح کے لیکچر کارد پادری غلام صحیح نے "عظمت صحیح از روئے قرآن" کے عنوان سے فورمین کرسچن کالج میں ایک لیکچر دیا تھا۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے " شمیذ الاذہان میں اس لیکچر کے رد میں ایک تحقیقی مضمون لکھا جس میں قرآنی نقطہ نگاہ سے حضرت مسیح علیہ السلام کا حقیقی منصب و مقام پیش کر کے ان کے اصلی خدو خال پیش فرمائے۔ایک غیر احمدی صحافی (اخبار نویس) محمد اسلم قادیان میں ایک غیر احمدی صحافی کی آمد صاحب امرت سر سے قادیان آئے اور چند دن قیام کر کے واپس چلے گئے۔انہوں نے حضرت خلیفہ اول اور جماعت کا نہایت قریب سے مطالعہ کرنے کے بعد اپنے تاثرات پر ایک تفصیلی بیان دیا۔اس بیان سے (جس کے بعض ضروری اقتباسات ذیل میں درج کئے جارہے ہیں) حضرت خلیفہ اول اور آپ کے عہد خلافت کی قادیان پر بہت تیز روشنی پڑتی ہے۔مسٹر محمد اسلم نے لکھا:۔عالم اسلام کی خطرناک تباہ انگیز مایوسیوں نے مجھے اس اصول پر قادیان جانے پر مجبور کیا کہ احمدی جماعت جو بہت عرصے سے یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ وہ دنیا کو تحریری و تقریری جنگ سے مغلوب کر کے اسلام کا حلقہ بگوش بنائے گی۔آیا وہ ایسا کرنے کی اہمیت رکھتی ہے۔۔۔۔۔۔مولوی نور الدین صاحب جو بوجہ مرزا صاحب کے خلیفہ ہونے کے اس وقت احمدی جماعت کے مسلمہ پیشوا ہیں۔جہاں تک میں نے دو دن ان کی مجالس وعظ و درس قرآن شریف میں رہ کر ان کے کام کے متعلق غور کیا۔مجھے وہ نہایت پاکیزہ اور محض خالصتہ اللہ کے اصول پر نظر آیا۔کیونکہ مولوی صاحب کا طرز عمل قطعاً ریاد منافقت سے پاک ہے۔اور ان کے آئینہ دل میں صداقت اسلام کا ایک ایسا زبردست جوش ہے جو معرفت توحید کے شفاف چشمے کی وضع میں قرآن مجید کی آیتوں کی تفسیر کے ذریعہ ہر وقت ان کے بے ریا سینے سے اہل ابل کر تشنگان معرفت توحید کو فیض یاب کر رہا ہے۔اگر حقیقی اسلام قرآن مجید ہے تو قرآن مجید کی صادقانہ محبت جیسی کہ مولوی صاحب موصوف میں میں نے دیکھی ہے اور کسی شخص میں نہیں دیکھی یہ نہیں کہ وہ تقلیدا ایسا کرنے پر مجبور ہیں نہیں بلکہ وہ ایک زبردست فیلسوف انسان ہے