تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 438
تاریخ احمدیت جلد ۳ مجید ہے۔| 119 430 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ کے سفر ہند و عرب دسمبر ۱۹۱۲ء میں حضرت خلیفہ اول نے حضرت مسیح موعود کی نبوت کا واضح اعلان فرمایا۔میں حیران ہوں کہ لوگ اگلے مجد دوں کو تو مانتے ہیں جن میں کسی نے کھل کر یہ دعویٰ نہیں کیا۔کہ مجھ پر خدا کی وحی نازل ہوتی ہے اور محض اس لئے مان لیا۔کہ ان میں سے کسی نے بہت سی کتابیں تصنیف کر دیں اور اس مجددا عظم کا انکار کرتے ہیں جو مج منیرہ کے ساتھ آیا۔اور اس میں دوسرے مسجد دوں سے کئی باتیں بڑھ کر ہیں۔مثلاً یہ کہ خدا کی وحی مجھ پر نازل ہوتی ہے اور اسے بطور حجت بارہا اعلان کر کے شائع کیا۔پھر آنحضرت کے سال ہائے نبوت سے زیادہ مدت گذر گئی۔دوم تمام مجددوں میں سے نبی اللہ صرف آپ ہی کے لئے احادیث میں آیا ہے دیکھو مسلم سوم آپ نے تمام مخالف اسلام مذاہب کی تردید قرآنی آیات سے کی اور اسلام کو تمام ادیان پر حسب پیشگوئی لیظهره على الدين كله غالب کر دکھایا۔ترکی کی شکست اور حضرت مسیح موعود کی ایک پیشہ کی جنگ بلقان میں ترکی کی پیشگوئی بہت ہوئی جو پورے شکست عالم اسلام کے لئے نہایت درجہ درد ناک حادثہ تھا۔مگر اس موقعہ پر چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی ایک پیشگوئی پوری ہوئی۔اس لئے خواجہ کمال الدین صاحب نے ولایت کے ایک انگریزی اخبار میں مضمون لکھا کہ " آج سے ۹ سال پہلے احمد نبی قادیان نے صاف اور صریح اور بلا مغشوش الفاظ میں پیشگوئی کی۔۔۔۔غلبت الروم في ادنى الارض و هم من بعد غلبهم سيغلبون في بضع سنین ریویو آف ریپیرو اردو جنوری ۱۹۰۴ء) ترک اس زمین میں جو ان سے ملحق ہے مغلوب ہوں گے اور پھر چند سالوں میں اپنے دشمن پر غالب آئیں گے اس پیشگوئی کا پہلا حصہ قریباً پورا ہو چکا ہے " اور عنقریب رہ وقت آنے والا ہے جبکہ واقعات آئندہ اس کے بقیہ حصہ کو پورا کر دیں گے۔عربی الہام میں الفاظ ادنى الارض بہت ہی معنے خیز ہیں ان سے مراد بہت ہی قریب کی زمین اور ملک جو ترکی کی سرزمین کے ملحق ہو جس سے صاف طور پر بلقان کی زمین مراد ہے۔( ترجمہ ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام میں " بضع سنین " کا لفظ بتاتا تھا کہ یہ حادثہ تین سے نو سال تک کے عرصہ میں وقوع پذیر ہو گا۔چنانچہ ایسا ہی عمل میں آیا اور جیسا کہ اس میں یہ خبر تھی کہ ترک پھر غالب آئیں گے۔مصطفی کمال پاشا کی قیادت میں ترک مسلمان شاہ راہ ترقی پر گامزن ہو گئے اور عجیب بات ہے کہ مغلوبیت کے ٹھیک 9 سال کے اندر اندر وہ اس قابل ہو گئے۔کہ یونان کو پہلی