تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 437 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 437

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 429 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد اید و اللہ کے سفر ہندو عرب اور دونوں طرف اکبر شاہ خاں اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب بیٹھے تھے۔حضرت خلیفہ اول نے رقعہ کی پشت پر چند الفاظ لکھے جن سے یہ حقیقت کھلتی ہے کہ آپ کو خدا کی طرف سے آئندہ بعض اختلافات سلسلہ کے بارے میں انکشاف ہو چکا تھا۔اور آپ کسی نہ کسی رنگ میں اس کا اظہار بھی فرما دیتے تھے۔الفاظ یہ تھے۔"انشاء اللہ بہت دعا کروں گا۔آپ خود بھی دعا کریں۔ایک رؤیا ہے حضرت عمرؓ فرماتے ہیں ایران برباد ہو گئی گو مجھے تیرا کرتے ہیں مگر اس کی پرواہ نہیں۔اب فوجیں تیار کرتا ہوں اللہ کرے تم بھی افسر فوج ہو جاؤ "۔االم حضرت خلیفہ اول کی تحریک پر ۱۹۱۲ء کے ابتداء میں قادیان کے بعض "انجمن مبلغین " کا قیام نوجوانوں نے ایک انجمن مبلغین " بنائی جس کا نام "یادگار احمد " بھی تھا۔اس انجمن کی غرض اسلام کی تائید اور باقی مذاہب کے ابطال میں چھوٹے چھوٹے ٹریکٹ شائع کرنا تھا۔اس انجمن نے پہلا ٹریکٹ "کسر صلیب" کے نام سے شائع کیا۔جو حضرت میر محمد اسحاق صاحب کے قلم سے نکلا۔اس انجمن کی دیکھا دیکھی لاہور میں احمدیہ ینگ مین ایسوسی ایشن بھی قائم ہوئی جس نے کئی پمفلٹ چھاپے۔ma بابو عبد الحمید صاحب آڈیٹر راجپورہ بٹھنڈا ریلوے لاہور ”خطبات نور“ کی اشاعت نے حضرت خلیفہ اول کے خطبات کتابی شکل میں شائع کئے اور جس کا نام خود حضرت ہی نے خطبات نور رکھا۔اور خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا۔میرے تو وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ کوئی ان کو جمع کرے گا۔بڑی محنت کی ہے۔جیسی آپ نے ان سے محبت کی ہے خدا آپ سے محبت کرے"۔قبل ازیں یہ تحریر اپنے دست مبارک سے لکھ کر دی۔"بابو عبد الحمید صاحب نے میری اجازت سے اور مجھے مسودات دکھانے کے بعد میرے خطبات کو کتاب کی صورت میں شائع کرنے کا انتظام کیا ہے۔اللہ تعالی اس اخلاص کے واسطے انہیں جزائے خیر دے اور ان کے کام کو با برکت کرے"۔| IIA ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب سے خط و کتابت ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب نے عربی ادب کی اعلیٰ ترین کتب کے بارے میں حضرت خلیفہ اول سے راہ نمائی چاہی تھی چنانچہ آپ نے ۲ / دسمبر ۱۹۱۲ء کو عربی کے ادبی لٹریچر کی ایک فہرست بھجوائی اور لکھا کہ علم ادب کی اعلیٰ سے اعلیٰ کتاب مخل بالطبع ہو کر عرض کرتا ہوں اور اس امر میں بڑے بڑے ادیب میرے ساتھ ہیں۔حتی کہ جرمنی کے عربی دان بھی کہتے ہیں کہ عربی کی بہترین کتاب قرآن