تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 433
تاریخ احمدیت جلد ۳ 425 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ کے سفر ہند و عرب سے بالمشافہ ملاقات کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔آپ کا ارادہ اس سفر میں قادیان تک جانے کا بھی تھا تا حضرت مرزا صاحب کی صحبت میں رہنے والوں کی عملی دروحانی حالت بچشم خود ملاحظہ کر سکیں۔چنانچہ آپ اکتوبر ۱۹۱۲ء میں مولوی امداد علی صاحب ، قاری دلاور علی صاحب اور دھانو منشی کو ساتھ لے کر برہمن بڑیہ سے لکھنو پہنچے جہاں مولانا شیلی صاحب سے تخلیہ میں ملاقات کی اور پوچھا۔قادیانی عقائد کے بارے میں آپ کی کیا تحقیق ہے ؟ اس پر انہوں نے یہ کہہ کر سکوت اختیار کر لیا کہ میں نے تجربہ کیا ہے جب کسی باطل مذہب کی تردید کی جائے تو وہ اور بڑھتا ہے اور اگر خاموشی اختیار کی جائے تو بتدریج مٹ جاتا ہے۔یہیں مولوی عبد اللہ ٹونکی بھی آگئے تھے مولوی عبد الواحد صاحب نے ان سے مسئلہ وفات مسیح کی بابت سوال کیا۔تو اس کا جواب دینے کی بجائے جھٹ بول اٹھے کہ اصل کلام تو میرزا صاحب کی نبوت میں ہے اس پر مولوی سید عبد الواحد صاحب نے حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی امام عبد الوہاب شعرانی اور حضرت ملا علی قاری اور حضرت شیخ محمد طاہر کا مسلک پیش کر کے کہا کہ مرزا صاحب جس قسم کی نبوت (غیر تشریعی و علی) کے مدعی ہیں اس میں تو کوئی قباحت نظر نہیں آتی۔انہوں نے آیت خاتم النبین پیش کر دی مولوی سید عبد الواحد صاحب نے کہا کہ خاتم کالفظ ت کی زبر سے ہے اس لفظ کے معنی جو آخر الانبیاء کئے ہیں اس کی عرب کے کسی مستند کلام سے کوئی نظیر دکھا سکتے ہیں جھٹ جواب دیا لا نبی بعدی۔آپ نے فرمایا کہ اس قسم کی ترکیبیں حدیث میں کثرت سے آئی ہیں چنانچہ لکھا ہے لا ايمان لمن لا امانة له ولا دين لمن لا عهد له۔ان دونوں حدیثوں میں "لا" کا حرف نفی جنس کے لئے نہیں نفی کمال کے لئے مستعمل ہوا ہے یہی معنی لانبی بعدی کے ہیں یعنی میرے بعد مجھ سی شان رکھنے والا کوئی نبی قیامت تک نہیں آسکتا۔الغرض مسئلہ نبوت پر مغرب کی نماز تک گفتگو جاری رہی۔دوسرے دن آپ حضرت مولوی عبدالحی صاحب کے داماد مولوی عبد الباری صاحب سے ملاقی ہوئے مگر انہوں نے مسئلہ وفات مسیح کی طرف توجہ دینے سے گریز کیا۔اور محض مجادلانہ باتیں ہی کرتے رہے آخر آپ لکھنو سے شاہجہانپور آئے اور بریلوی فرقہ کے پیرو مرشد مولوی احمد رضاخان صاحب کے مکان پر پہنچے۔اور ان سے اپنے آنے کی غرض بتائی۔انہوں نے بات سنتے ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا فتویٰ جڑ دیا۔مولوی سید عبد الواحد صاحب نے اس فتویٰ کے ثبوت میں کوئی دلیل طلب کی انہوں نے جواب دیا کہ امت محمدیہ کے نزدیک دعوی نبوت کفر ہے۔آپ نے ان کے سامنے بھی وضاحت کی جیسا کہ مولوی عبد اللہ ٹونکی کے سامنے کر چکے تھے اور پہلا مطالبہ ان سے بھی کیا۔مگر وہ بد حواس سے ہو گئے۔آپ نے ان سے پوچھا خاتم النبین کیا مقام مدح