تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 431
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 423 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ کے سفر ہند و عرب 44 تقسیم ہوئے۔لاہور میں اتفاق واتحاد کے موضوع پر آپ کی تقریر بھی ہوئی احباب امرت سر کے اصرار پر آپ پونے نو بجے کی گاڑی سے امرت سر اترے وہاں بھی آپ نے تقریر فرمائی پھر دو بجے کے قریب بٹالہ پہنچے۔حضرت ام المومنین اپنے پیارے لخت جگر کے استقبال کے لئے بہ نفس نفیس قادیان سے بٹالہ تشریف لے گئیں۔حضرت خلیفہ اول کو آپ کی مراجعت پر جو بے انتہا خوشی ہوئی وہ دیکھنے ہی سے تعلق رکھتی تھی۔آپ کے ارشاد سے دونوں سکولوں میں تعطیل کر دی گئی اور بہت سے دوست اور مدرسہ احمدیہ اور ہائی سکول کے طلبہ قاریان والی نہر تک استقبال کے لئے گئے حضرت خلیفتہ المسیح اول نے ظہر و عصر کی نمازیں جمع کیں اور باوجود ضعف و ناتوانی کے قادیان سے باہر دور تک آگے تشریف لے گئے۔قادیان کے بقیہ لوگ جن میں حضرت نواب محمد علی خان صاحب بھی شامل تھے آپ کے ساتھ تھے چنانچہ حضرت صاحبزادہ صاحب قریباً پونے پانچ بجے شام تشریف لے آئے۔اخبار "الحکم " میں لکھا ہے۔پونے پانچ بجے نبیوں کا چاند طالع ہوا۔جو مسرت جو شادمانی اور جو ہجوم اور پروانہ وار جان نثاران ملت کا گرے پڑنا اس موقع پر دیکھا گیاوہ سرسری نظر سے دیکھنے کے قابل نہیں ان فی ذالک لایات للسائلين " دے اس کو عمر و دولت کر دور ہر اندھیرا آپ کے خیر مقدم پر شیخ محمود احمد صاحب عرفانی (ابن شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ایڈیٹر الحکم) نے ایک اشتہار بھی شائع کیا جس میں آپ کی تشریف آوری پر مبارک باد دی اور لکھا تھا کہ آپ کے سفر حج سے میر العرب کا الہام پورا ہوا ہے اور آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے یہ شعر لکھے لخت جگر ہے میرا محمود بندہ تیرا دن ہوں مرادوں والے پرنور ہو سویرا روز کر مبارک سبحان من یرانی ۱۴/ جنوری ۱۹۱۳ء کو مدرسہ کے طلباء نے آپ کے اعزاز میں ایک پر تکلف پارٹی دی جس میں حضرت خلیفہ اول نے تقریر بھی فرمائی۔اس دن حضرت کی خدمت میں طلبائے ہائی سکول نے درخواست پیش کی کہ ہم حضرت میاں صاحب کی تشریف آوری پر خوشی کا اظہار کیسے کریں۔آپ نے اس کے جواب میں تحریر فرمایا۔”میاں صاحب کی زندگی با برکت مفید خلائق اور خادم اسلام ہو مل کر یہ دعا کرو۔وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھ کے جناب الہی کی تعریف اور اپنے استغفار کے بعد - نور الدین ۱۴ ر جنوری ۱۹۱۳ء " - - حضرت خلیفہ اول کے ارشاد سے دوستوں نے مسجد نور میں صلوٰۃ الحاجہ پڑھی اور حضرت صاحبزادہ صاحب کے لئے دعائیں کی گئیں دعا کے بعد حضرت صاجزادہ صاحب نے تقریر فرمائی جس میں اپنے سفر کے حالات پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ میں نے اس سفر کے لئے ایک ماہ قبل سے استخارہ شروع کیا۔