تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 426
تاریخ احمدیت جلویر ۳ 418 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ کے سفر ہند و عرب اور عنایت ہے کہ اس نے اپنے فضل سے اپنے پاک اور مقدس مقام کی زیارت کا موقعہ دیا۔کل جب مکہ کی طرف اونٹ آرہے تھے دل کی عجیب کیفیت تھی کہ بیان نہیں ہو سکتی۔محبت کا ایک جوش دل میں پیدا ہو رہا تھا۔اور جوں جوں قریب آتے تھے دل کا شوق بڑھتا جاتا تھا۔میں حیران ہوں کہ اللہ تعالی کس طرح اپنی حکومت اور ارادہ کے ماتحت کہاں سے کہاں کھینچ لایا۔پہلے مصر کا خیال پیدا ہوا پھر یہ خیال آیا کہ راستہ میں مکہ ہے اس کی زیارت بھی کرلیں۔پھر خیال ہوا۔حج کے دن ہیں۔ان سے بھی فائدہ اٹھایا جائے۔غرضکہ ارادہ مصر سے مکہ اور حج کا ہوا اور آخر اللہ تعالٰی نے وہاں پہنچا دیا۔مجھے مدت سے حج کی خواہش تھی اور اس کے لئے دعا ئیں بھی کی تھیں لیکن بظاہر کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔کیونکہ وہاں کے راستہ کی مشکلات سے طبیعت گھبراتی اور یہ بھی خیال تھا کہ مخالفین کوئی شرارت نہ کریں لیکن مصر کے ارادہ سے یہ خیال ہوا کہ مصر جانا اور راستہ میں مکہ کو ترک کر دینا ایک بے حیائی ہے اس میں تو کچھ شک نہیں کہ جدہ سے مکہ تک کا سفر نہایت کٹھن ہے اور میر صاحب تو قریباً بیمار ہو گئے۔اور مجھے بھی سخت تکلیف ہوئی۔اور تمام بدن کے جوڑ جو ڈبل گئے لیکن بڑی نعمتیں بڑی قربانیاں بھی چاہتی ہیں۔اس بڑی نعمت کے لئے یہ تکلیف کیا چیز ہے۔مدینہ کا راستہ اور بھی طویل اور کٹھن ہے لیکن چند دن کی تکلیف ان پاک مقامات کے دیکھنے کے لئے جہاں رسول کریم فداہ ابی و امی نے اپنی بعثت نبوت کا ایک روشن زمانہ گزارا کیا چیز ہے۔میرا دل تو اللہ تعالیٰ کے اس احسان پر قربان ہو رہا ہے کہ وہ کس حکمت کے ساتھ مجھے اس جگہ لے آیا۔نالك فضل الله يؤتيه من يشاء۔اللہ تعالی کی حکمت اس سے بھی معلوم ہوتی ہے کہ اول تو اس جہاز سے جو مصر جا تا تھا رہ گئے لیکن بعد میں جب اصرار کر کے دوسرے جہاز میں سوار ہوئے تو مصر پہنچتے ہی خواب آیا کہ حضرت صاحب یا آپ (یعنی حضرت خلیفتہ المسیح - ناقل) فرماتے ہیں۔فور امکہ چلے جاؤ پھر شاید موقعہ ملے کہ نہ ملے چنانچہ ہ دو جہاز چلے گئے اور ہم ان میں سوار نہ ہو سکے۔جس سے خواب کی تصدیق ہو گئی اس طرح مصر کی سیر بھی نہ کر سکے۔اور جب مکہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ اب مصر نہیں جاسکتے۔کیونکہ گورنمنٹ مصر کا قاعدہ ہے کہ سوائے ان لوگوں کے جو مصر کے باشندہ ہوں حج کے بعد چار ماہ تک کوئی شخص حجاز و شام سے مصر نہیں جا سکتا۔۔اب اس صورت میں مصر میں واپس جانا فضول معلوم ہوتا ہے میں نے تو ان سب واقعات کو ملا کر یہی نتیجہ نکالا ہے کہ منشائے الہی مجھے حج کروانے کا تھا اور مصر کا خیال ایک تدبیر تھی۔میں تو اللہ تعالیٰ کی اس مہربانی پر قربان ہوں کہ میرے جیسے گندگار انسان کی کیا حقیقت تھی کہ اس پر اس قدر لطف و عنایت کی نظر ہوتی اور اس طرح اسے ایسے پاک مقامات کی زیارت کروائی جاتی۔مگر خد اتعالیٰ کا پیار بھی اپنے بندوں سے سمجھ میں نہیں آسکتا۔وہ تو محسن ہے مگر ہما۔ہی طرف سے ناشکری ہوتی ہے کل