تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 416
تاریخ احمدیت جلد ۳ 408 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ کے سفر ہند و عرب اس کے بعد ۱۹۲۹ء کے آخر میں آپ نے دو کنگ مشن کا تعلق انجمن اشاعت اسلام سے بھی منقطع کر لیا۔اور انقطاع سے قبل صاف صاف اعلان کیا: و مسلم مشن دو کنگ مشن اپنی بناء۔اپنے وجود اپنے قیام کے لئے میری ذات کے سوا کسی اور جماعت یا شخصیت یا کسی انجمن کا مرہون احسان نہیں ہے۔میں نے اپنے ہی سرمایہ سے جو وکالت کے ذریعہ مجھے حاصل ہوا۔اس مشن کو قائم کیا۔اس کے متعلق نہ میں نے کسی سے مشورہ حاصل کیا نہ کسی نے مجھے مشورہ دیا۔بلکہ جب میں گھر سے نکلا تھا تو میرے ارادہ سے کوئی واقف بھی نہ تھا۔خود میرے اعزا اور میرے دوستوں کو میرے انگلستان جانے کا اس وقت علم ہو ا جب میں نے جہاز کا ٹکٹ لے لیا۔وہاں جا کر جو کچھ کیا۔اپنی ذمہ داری پر اور اپنے اخراجات پر کیا۔دو سال سے زیادہ مشن کی کشتی کو اپنے بازوؤں سے چلایا۔اسلامک ریویو " اپنے سرمایہ سے نکالا - ۱۵ء میں برادران اسلام میں سے بعض نے امداد دینی پسند کی۔جسے شکریہ کے ساتھ قبول کیا گیا۔اگر چہ یہ کل کاروبار ذاتی کاروبار ہیں اور جس نے امداد دی۔اسے کہہ دیا گیا۔اور اس کے متعلق مطبوعہ اعلان موجود ہے۔کہ جو مجھے پر اعتبار نہ رکھتا ہو وہ ہرگز مدد نہ دے"۔"کلام امیر" کی اشاعت ۱۹ / ستمبر ۱۹۱۲ء سے اخبار بدر میں کلام امیر" کے نام سے ایک مستقل ضمیمہ شائع ہونا شروع ہوا۔جس میں حضرت کا درس قرآن حضرت کی ڈائری ، حضرت کے سوانح اور آپ کے فرمودہ مباحث و لطائف اور خطوط و غیرہ درج ہونے لگے۔یہ ضمیمہ ایک سو چار صفحہ تک چھپ کر بند ہو گیا۔یہ ضمیمہ حقائق و معارف کا ایک گنجینہ ہے جس سے آپ کی روحانی عظمت اور بلند اخلاق اور وسیع علم کا پتہ چلتا ہے۔