تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 415
تاریخ احمدیت جلد ۳ 407 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ کے سفر ہند و عرب میں بڑے بڑے جلسوں میں ان کی اعانت کی تحریکیں ہوئیں جن میں ڈاکٹر محمد اقبال اور مولانا آزاد نے خاص طور پر حصہ لیا۔سرکار بھوپال نے بھاری مدد کی۔علامہ شبلی نے خواجہ صاحب کے مشن کے لئے ایک سو روپیہ ماہانہ کی رقم ایک دربار سے مقرر کرا دی۔قبل ازیں خواجہ صاحب نے ان تمام مسلمانوں کے نام " من انصاری الی الله" کے عنوان سے ایک چٹھی بھی لکھی تھی۔جس میں لکھا۔میں نے اپنے ایجنٹ منشی نور احمد صاحب کو مقرر کیا ہے کہ وہ مختلف شہروں میں آپ صاحبان کی خدمت میں آویں۔میری طرف سے گدائی کریں "۔حضرت خلیفہ اول نے یہ دیکھ کر کہ خواجہ صاحب ولایت میں بھی جا کر اس پنسی پر چلے گئے ہیں جو اخبار وطن کے ایڈیٹر سے گٹھ جوڑ کر کے انہوں نے تیار کی تھی۔اور جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سخت نا پسند فرمایا تھا۔خواجہ صاحب کو خاص طور پر خط لکھا کہ : میں آپ کے لئے دو باتیں بے شک نا پسند کرتا ہوں۔اول آپ کا جلد ہندوستان آنا۔دوسرا عام لوگوں کے آگے چندے کے لئے سوال کرنا بھی مجھے آپ کے لئے بہت نا بند ہے اس میں آپ دوسرے لوگوں کی طرف خیال نہ کریں۔خواہ وہ کتنے بڑے لوگ کیوں نہ ہوں۔جو ان کا اسلام ہے وہ ہمارا اسلام نہیں ہم تو اللہ کا ہی دیا ہوا روپیہ چاہتے ہیں۔خواہ لندن میں ہو یا ہندوستان میں۔خوشامدی بن کر جو روپیہ لیا جاوے وہ بابرکت نہیں ہو تا۔اور یہ تو مجھے یقین ہے کہ جو آپ کے ہاتھ پر مسلمان ہوں گے وہ مسیح کی وفات کے بھی قائل ہوں گے۔اور ایسا ہی وہ اس بات کے قائل ہوں گے۔کہ طبعی مردے دنیا میں واپس نہیں آیا کرتے حضرت صاحب کا اصلی منشاء تو عملی حالت کو سنوار نا تھا۔اس لئے احباب کو عملی حالت کے سنوارنے کی طرف نگاہ رکھیں۔اس بات کی مطلق پروانہ کریں کہ فلاں انجمن یا فلاں مجلس میں آپ کے لئے کیا ہوایا کیا نہیں ہوا"۔مگر خواجہ صاحب نے اس وقت آپ کی اس ہدایت سے قطعی گریز اختیار کیا۔ایک عرصہ بعد پیسہ اخبار میں اس قسم کی خبریں شائع ہو ئیں کہ خواجہ صاحب بعض پرانے نو مسلم انگریزوں کو اپنی ماہانہ رپورٹ میں اپنے نو مسلموں کی فہرست میں شامل کر رہے ہیں تو انہوں نے سخت طیش میں آکر اشاعت اسلام کے نام پر دئیے ہوئے لاکھوں روپیہ کے حساب کا مطالبہ شروع کر دیا۔آخر بڑی دیر اور بار بار کے اصرار کے بعد خواجہ صاحب بولے اور انہوں نے بعض رقوم کو ذاتی بتا کر ان کا حساب دینے سے قطعاً انکار کر دیا۔اور بعض کے متعلق کہا کہ ان کا حساب کتاب انجمن اشاعت اسلام لاہور کے سپرد کیا گیا ہے اور وہی اس کی ذمہ دار ہے "۔