تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 414
تاریخ احمدیت جلد ۳ 406 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایده الله - فرمند ؛ عرب سکے تو کارڈ ہی سہی۔دعا کے بعد آپ نے خواجہ صاحب کو رخصت فرمایا - ۱۷/ ستمبر ۱۹۱۲ء کو آپ بمبئی سے جہاز پر سوار ہوئے۔اور ۲۴ ستمبر کی سہ پہر کو انگلستان میں قدم رکھا۔وہاں پہنچ کر حضرت خلیفہ اول نے ان کو تین باتوں کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی۔اول یہ کہ دعا اور کوشش سے کام لیں۔دوم۔ساری دنیا کے لوگ لندن میں ہیں سب سے ملو اور وفات عیسی منواؤ - l سوم - سنا ہے روکنگ میں ایک مسجد بھی ہے جس کے لئے ڈاکٹر لا شٹر (Lietner) نے چندہ کیا تھا۔خواجہ صاحب نے مسجد کی طرف توجہ کی تو معلوم ہوا واقعی لندن سے کوئی پچیس تمیں میل کے فاصلہ پر دو کنگ شہر میں پروفیسر ڈاکٹر جی۔ڈبلیو لائٹر نے ۱۸۸۶۰۸۷ء میں بیگم صاحبہ بھوپال کے خرچ سے بنوائی تھی۔مگر یہ جب سے بنی تھی۔مقفل پڑی تھی۔خواجہ صاحب نے ایک صاحب مرزا عباس علی بیگ صاحب سے مل کر ۱۳ اگست ۱۹۱۳ء کو یہ مسجد کھلوائی۔اور ٹرسٹیان مسجد سے زبانی یا تحریری یہ وعدہ کر کے وہ اپنی تبلیغ میں احمدیت یا کسی قسم کے فرقہ وارانہ امور کا ذکر نہیں کریں گے۔۲ نومبر ۱۹۱۳ء سے دو کنگ میں مشن قائم کر لیا۔اور احمدیت کے تذکرہ کو "سم قاتل قرار دے کر " تبلیغ اسلام " کرنا شروع کر دی۔چنانچہ خود ہی فرماتے ہیں۔" میں اول تو اپنی فطرت سے مجبور ہوں۔غیر اسلامی لوگوں کے سامنے مجھے قرآن اور محمد کو پیش کرنے کے سوا کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔دوسرے فرقہ کی بحث یہاں کرنا میرے علم اور یقین میں اشاعت اسلام کے لئے سم قاتل " ہے۔اتفاق یہ ہوا کہ ایک صاحب جن کا نام لارڈ ہیڈلے تھا۔اور کافی عرصہ ہندوستان میں رہ چکے تھے۔اور عرصہ سے دلی طور پر مسلمان تھے۔اور اپنے تئیں عام طور پر مسلمان کی حیثیت سے ظاہر نہ کرتے تھے۔آپ کو مل گئے۔آپ نے کھلم کھلا اظہار اسلام پر ان کو آمادہ کیا۔جس پر انہوں نے ۱۸/ نومبر کو اپنے قبول اسلام کا اعلان کر دیا۔اس اعلان کو خواجہ صاحب نے اپنی شہرت کا ایک زبر دست ذریعہ بنا کر وسیع پیمانے پر پراپیگنڈہ کیا۔جس میں انہیں خاصی کامیابی ہوئی۔چنانچہ مولف " مجدد اعظم " لکھتے ہیں۔انہی ایام میں لارڈ ہیڈلے کی شہرت کا انسان اسلام میں داخل ہوا۔جس سے مشن کی شہرت انگلستان اور ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں پھیل گئی۔خواجہ صاحب نے لارڈ ہیڈلے کی بے حد تعریف و توصیف کی حتی کہ اسے آفتاب اسلام کے طلوع مغرب سے قبل " صبح کا ستارہ قرار دیا۔خواجہ صاحب کے اس پراپیگنڈا کا خاطر خواہ نتیجہ برآمد ہوا۔یعنی مسلمانان ہند کے ہر طبقہ کے سامنے آپ نے مشن کی تقویت کے لئے چندہ کی مسلسل پلیں کیں اور ہر فرقہ کے مسلمان انگلستان میں فتوحات اسلام کی امیدیں باندھ کر ان کو فراخ دلی سے چندے دینے لگے۔نظام حیدر آباد دکن نے خواجہ صاحب کے نام معقول وظیفہ جاری کر دیا۔انجمن خواتین اسلام حیدر آباد نے خواجہ صاحب کو چندہ بھجوایا۔لاہور آگرہ اور کلکتہ